🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

216. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - .
حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15860
عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَصُرَ بِي وَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَرَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ میں حصہ لیا، اُس غزوے کے دوران ہم لوگ فج روحاء کے مقام پر موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا، تو مجھے دعائیں دیں، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان دعاؤں کے عوض میں، مجھے دنیا اور اس میں موجود سب کچھ مل جائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمر بن عمرو بن میمون بن مہران ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15860]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15861
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ، وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا أَرْسَلَهُ.
مجاہد بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب غزوہ فتح مکہ میں شریک ہوئے تھے، اُس وقت ان کی عمر بیس سال تھی اور ان کے ساتھ ایک گھوڑا تھا جو سرکش تھا اور ایک بھاری نیزہ تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو الگ لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ ایک نیک آدمی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ مجاہد نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15861]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (4600)»

الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15862
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّفَاوِيِّ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بَكَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْحَاقُ الطَّفَاوِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
اسحاق بن عبدالله طفاوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے تھے تو رو پڑتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اسحاق طفاوی سے میں واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15862]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15863
وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ صَلَاةً، ثُمَّ يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَسَحَرْنَا؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيُعَاوِدُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَسَحَرْنَا؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقْعُدُ فَيَسْتَغْفِرُ وَيَدْعُو حَتَّى يُصْبِحَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، وَهُوَ ثِقَةٌ.
نافع نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: وہ رات کے وقت نوافل پڑھتے تھے، پھر یہ دریافت کرتے تھے: اے نافع! کیا سحری کا وقت قریب ہو گیا ہے؟ وہ جواب دیتے تھے، جی نہیں! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پھر نماز پڑھنے لگ جاتے تھے، پھر دریافت کرتے تھے: اے نافع! کیا سحری کا وقت قریب آ گیا ہے؟ میں جواب دیتا تھا: جی ہاں! تو وہ بیٹھ کر دعائے استغفار پڑھتے رہتے تھے اور دعا کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15863]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13043)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15864
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنْ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لِيَقْسِمُ فِي الْمَجْلِسِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ يَأْتِي عَلَيْهِ شَهْرٌ مَا يَأْكُلُ فِيهِ مُزْعَةَ لَحْمٍ. قَالَ بُرْدٌ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: هَلْ كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ؟ قَالَ: كَانَ إِذَا صَامَ أَوْ سَافَرَ فَإِنَّهُ أَكْثَرُ طَعَامِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک محفل میں تیس ہزار کی رقم تقسیم کر دی اور پھر ایک مہینہ ان پر ایسا گزرا کہ انہیں اس دوران گوشت کا ایک ٹکڑا بھی کھانے کے لئے نہیں ملا۔ برد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے نافع سے دریافت کیا: کیا وہ گوشت کھایا کرتے تھے؟ نافع نے بتایا: جب انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا، یا جب وہ سفر کر رہے ہوتے تھے، تو وہ زیادہ تر گوشت ہی کھاتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف برد بن سنان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15864]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13045)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15865
وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَكَى، فَاشْتُرِيَ لَهُ عُنْقُودُ عِنَبٍ بِدِرْهَمٍ، فَجَاءَ مِسْكِينٌ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ بِدِرْهَمٍ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَيْهِ، فَجَاءَ الْمِسْكِينُ يَسْأَلُ، فَقَالَ: أَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ بِدِرْهَمٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى مُنِعَ، وَلَوْ عَلِمَ بِذَلِكَ الْعُنْقُودِ مَا ذَاقَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے، نافع نے ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگوروں کا گچھا خریدا، ایک غریب آیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ اسے دے دو، پھر ایک اور شخص گیا، وہ ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگور خرید کر لایا، اسی دوران ایک مسکینہ آئی، اس نے مانگا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ اسے دے دو، پھر ایک اور انسان گیا اس نے ایک درہم کے عوض میں ان کے لئے انگور خریدے، اس مسکین نے دوبارہ مانگنے کا ارادہ کیا تو اسے منع کر دیا گیا، اگر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چل جاتا، تو انہوں نے ان انگوروں کو چکھنا بھی نہیں تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف نعیم بن حماد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15865]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15866
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِرَاعِي غَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَاعِيَ الْغَنَمِ، هَلْ مِنْ جَزْرَةٍ؟ قَالَ الرَّاعِي: مَا لَيْسَ هَاهُنَا رَبُّهَا. قَالَ: تَقُولُ أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَرَفَعَ الرَّاعِي رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: فَأَيْنَ اللَّهُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَأَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ أَنْ أَقُولَ: فَأَيْنَ اللَّهُ. فَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ الرَّاعِيَ، وَاشْتَرَى الْغَنَمَ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْطَاهُ الْغَنَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْحَاطِبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس سے ہوا، انہوں نے دریافت کیا: اے بکریوں کے چرواہے! کیا کوئی ایسی بکری ہے، جس کو قربان کیا جا سکے؟ تو چرواہے نے کہا: یہاں ان کا مالک نہیں ہے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ کہہ دینا کہ بھیڑیا اسے کھا گیا تھا، اس چرواہے نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا پھر دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے (یعنی اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے) پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُس چرواہے کو خرید لیا، اس کی بکریوں کو خرید لیا اور اس چرواہے کو آزاد کر کے وہ بکریاں اسے دیدیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف عبداللہ بن حارث حاطبی کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15866]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (13054)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15867
وَعَنِ الْمُطْعَمِ بْنِ مِقْدَامٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ: كَتَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَطْلُبُ،وَإِنَّ الْخِلَافَةَ لَا تَصْلُحُ لِعَيِيٍّ، وَلَا بَخِيلٍ، وَلَا غَيُورٍ.
فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الْخِلَافَةِ أَنِّي أَطْلُبُهَا، فَمَا طَلَبْتُهَا، وَمَا هِيَ مِنْ بَالِي. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مَنْ أَمْرِ الْعَيِيِّ وَالْبُخْلِ وَالْغَيْرَةِ، فَإِنَّ مَنْ جَمَعَ كِتَابَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِعَيِيٍّ، وَمَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَلَيْسَ بِبَخِيلٍ. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْغَيْرَةِ، فَإِنَّ أَحَقَّ مَا غِرْتُ فِيهِ وَلَدِي أَنْ يُشْرِكَنِي فِيهِ غَيْرِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ ؛ الْمُطْعَمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عُمَرَ.
مطعم بن مقدام صنعانی بیان کرتے ہیں: حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ حکومت کے طلبگار ہیں، حالانکہ خلافت کسی ایسے شخص کے لئے موزوں نہیں ہے، جو کمزور ہو یا بخیل ہو، یا زیادہ غصے والا ہو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط میں لکھا: تم نے جہاں تک خلافت کے معاملے کا ذکر کیا ہے کہ میں اس کا طلبگار ہوں تو میں اس کا طلبگار نہیں ہوں، اور نہ ہی یہ میرا کام ہے، اور جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ کمزوری ہے، کنجوسی ہے، اور مزاج کی تیزی ہے، تو جس شخص نے اللہ کی کتاب کو جمع کیا ہو (یعنی حفظ کیا ہو) وہ کمزور نہیں ہوتا، جس شخص نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کی ہوئی ہو، وہ بخیل نہیں ہوتا اور جہاں تک مزاج کی تیزی کا تم نے ذکر کیا ہے، تو جس چیز کے بارے میں، میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا، اس میں سب سے زیادہ حق دار میری اولاد ہے کہ کوئی اس میں میرا شریک ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ
یہ روایت مطعم نامی راوی کی نقل کردہ مرسل روایت ہے کیونکہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15867]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (13048)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15868
وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: أَقَامَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتِّينَ سَنَةً تَفِدُ عَلَيْهِ وُفُودُ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ.
مالک بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ساٹھ سال زندہ رہے تھے، اس دوران لوگوں کے وفود ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ
یہ روایت مرسل ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15868]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13035)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15869
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: يَمْنَعُنِي مِنْهُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَرَّمَ عَلَيَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو الْأَشْهَبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
نافع بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: آپ حکومت کے معاملے میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں اور امیر المؤمنین کے صاحبزادے بھی ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا، اس چیز سے مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مسلمان بھائی کے خون کو مجھ پر حرام قرار دیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ابواشہب ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15869]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13046)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں