مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
324. بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16145
عَنْ عَطَاءٍ - مَوْلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ - قَالَ: رَأَيْتُ مَوْلَايَ: السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ لِحْيَتُهُ بَيْضَاءُ، وَرَأْسُهُ أَسْوَدُ، فَقُلْتُ: يَا مَوْلَايَ، مَا لِرَأْسِكَ لَا يَبْيَضُّ؟ قَالَ: لَا يَبْيَضُّ رَأْسِي أَبَدًا ; وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَضَى وَأَنَا غُلَامٌ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ وَأَنَا فِيهِمْ فَرَدَدْتُ - عَلَيْهِ السَّلَامَ - مِنْ بَيْنِ الْغِلْمَانِ، فَدَعَانِي فَقَالَ لِي:" مَا اسْمُكَ؟". فَقُلْتُ: السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ النَّمِرِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ". فَلَا يَبْيَضُّ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَدًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ: كَانَ وَسَطُ رَأْسِ السَّائِبِ أَسْوَدَ وَبَقِيَّتُهُ أَبْيَضَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا سَيِّدِي، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ رَأْسِكَ هَذَا قَطُّ! هَذَا أَسْوَدُ، وَهَذَا أَبْيَضُ! قَالَ: أَفَلَا أُخْبِرُكَ يَا بُنَيَّ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: إِنِّي كُنْتُ مَعَ صِبْيَانٍ نَلْعَبُ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَرَّضْتُ لَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ، مَنْ أَنْتَ؟". قُلْتُ: أَنَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ". قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ لَا يَبْيَضُّ أَبَدًا، وَلَا يَزَالُ هَكَذَا أَبَدًا.
وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءٍ مَوْلَى السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ: كَانَ وَسَطُ رَأْسِ السَّائِبِ أَسْوَدَ وَبَقِيَّتُهُ أَبْيَضَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا سَيِّدِي، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ رَأْسِكَ هَذَا قَطُّ! هَذَا أَسْوَدُ، وَهَذَا أَبْيَضُ! قَالَ: أَفَلَا أُخْبِرُكَ يَا بُنَيَّ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: إِنِّي كُنْتُ مَعَ صِبْيَانٍ نَلْعَبُ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَرَّضْتُ لَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ، مَنْ أَنْتَ؟". قُلْتُ: أَنَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ". قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ لَا يَبْيَضُّ أَبَدًا، وَلَا يَزَالُ هَكَذَا أَبَدًا.
وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءٍ مَوْلَى السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ.
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے آقا سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی داڑھی کے بال سفید تھے اور سر کے بال سیاہ تھے، میں نے کہا: اے آقا! اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کے سر کے بال سفید نہیں ہوئے؟ انہوں نے فرمایا: میرے سر کے بال کبھی سفید نہیں ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے، میں اس وقت بچہ تھا اور دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا ان بچوں میں، میں بھی موجود تھا، تمام بچوں میں سے میں نے آپ کو سلام کا جواب دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے عرض کی: سائب بن یزید، جو نمر کا بھانجا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ پر ہاتھ رکھا تھا، وہاں کے بال کبھی سفید نہیں ہوں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کے سر کا درمیانی حصہ سیاہ تھا اور باقی بال سفید تھے، تو میں نے اپنے آقا سے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کے سر کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی، یہ والا حصہ سیاہ ہے اور یہ والا حصہ سفید ہے، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں آپ کے سامنے آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے فرمایا: تم پر بھی سلام ہو، تم کون ہو؟ میں نے عرض کی: میں سائب بن یزید ہوں، جو نمر بن قاصد کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے، انہوں بیان کیا: اللہ کی قسم! یہ حصہ کبھی سفید نہیں ہو گا اور یہ ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔
معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے، معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال بھی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16145]
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کے سر کا درمیانی حصہ سیاہ تھا اور باقی بال سفید تھے، تو میں نے اپنے آقا سے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کے سر کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی، یہ والا حصہ سیاہ ہے اور یہ والا حصہ سفید ہے، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں آپ کے سامنے آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے فرمایا: تم پر بھی سلام ہو، تم کون ہو؟ میں نے عرض کی: میں سائب بن یزید ہوں، جو نمر بن قاصد کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے، انہوں بیان کیا: اللہ کی قسم! یہ حصہ کبھی سفید نہیں ہو گا اور یہ ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔
معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے، معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال بھی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16145]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح