مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
335. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16156
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَصَابَتْنِي رَمْيَةٌ وَأَنَا أُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ خَيْبَرَ فِي وَجْهِي، فَلَمَّا سَالَتِ الدِّمَاءُ عَلَى وَجْهِي وَصَدْرِي تَنَاوَلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيدَي فَسَلَتَ الدَّمُ عَنْ وَجْهِي وَصَدْرِي إِلَى ثَنْدُوَتَيْ ؛ ثُمَّ دَعَا لِي. قَالَ حَشْرَجُ: فَكَانَ عَائِذٌ يُخْبِرُنَا بِذَلِكَ فِي حَيَاتِهِ، فَلَمَّا هَلَكَ وَغَسَّلْنَاهُ، نَظَرْنَا إِلَى مَا كَانَ يَصِلُ لَنَا مِنْ [ أَمْرِ ] أَثَرِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي مَسَّهَا مَا كَانَ يَقُولُ لَنَا مِنْ صَدْرِهِ، فَإِذَا غُرَّةٌ سَائِلَةٌ كَغُرَّةِ الْفَرَسِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے ایک تیر لگا، میں اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ کر رہا تھا، یہ غزوہ خیبر کے موقع کی بات ہے، وہ تیر میرے چہرے پر لگا تھا، جب خون میرے چہرے اور سینے پر بہتا ہوا آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا، آپ نے میرے چہرے اور میرے سینے سے خون کو پونچھا اور پھر میرے لئے دعا کی۔ حشرج نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا عائذ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں ہمیں یہ بات بتایا کرتے تھے، جب ان کا انتقال ہوا اور ہم نے انہیں غسل دیا، تو ہم نے اس جگہ کا جائزہ لیا، جس کے بارے میں ہمیں پتہ چلا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو وہاں پر پھیرا تھا کہ جس کے بارے میں سیدنا عائذ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا تھا، تو اس مقام پر ایسی چمک تھی، جس طرح گھوڑے میں چمک دار نشان ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16156]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16156]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (20/18)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف