مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
336. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ الْجِسْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16157
عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ الْجِسْرِيِّ قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ، امْسَحْ وَجْهِي وَادْعُ لِي بِالْبَرَكَةِ، فَمَسَحَ وَجْهِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَتْ أُمُّ الْبَنِينَ - وَهِيَ امْرَأَتُهُ -: مَا رَأَيْتُهُ مُنْتَبِهًا مِنْ نَوْمٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ عَلَى وَجْهِهِ مُدَّهَنٌ، وَإِنْ كَانَ لَيَجْتَزِئُ بِالتَّمَرَاتِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا مائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ میرے چہرے پر ہاتھ پھیریے، اور میرے لئے برکت کی دعا کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی، ان صاحب کی اہلیہ سیدہ ام البنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے انہیں دیکھا کہ وہ جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تھے، تو ان کے چہرے پر یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے تیل لگا ہوا ہے، اگرچہ وہ کھجوروں کے کھیتوں میں کام کر کے آئے ہوئے ہوتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16157]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16157]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (21/18)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف