مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
337. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَبَاحِ الْأَسَدِيِّ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت رباح بن ربیع بن مرقع بن صیفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16158
عَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا بَعِيرًا، يَرْكَبُهُ اثْنَانِ وَيَسُوقُهُ وَاحِدٌ فِي الصَّحَارَى، وَيَفُوزُ فِي الْحِيَالِ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَمْشِي، فَقَالَ لِي:" أَرَاكَ يَا رَبَاحُ مَاشِيًا". فَقُلْتُ: إِنَّمَا نَزَلْتُ السَّاعَةَ وَهَذَانِ صَاحِبَايَ وَقَدْ رَكِبَا، بِصَاحِبِي فَأَنَاخَا بِعِيرَهُمَا وَنَزَلَا عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ قَالَا: ارْكَبْ صَدْرَ هَذَا الْبَعِيرِ، فَلَا تَزَالُ عَلَيْهِ حَتَّى تَرْجِعَ، وَنَعْتَقِبُ أَنَا وَصَاحِبِي، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنْ لَكُمَا رَفِيقًا صَالِحًا ; فَأَحْسِنَا صُحْبَتَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقِيلَ فِيهِ: صَدُوقٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقِيلَ فِيهِ: صَدُوقٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا رباح بن ربیع بن مرقع بن صیفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے تین افراد کو ایک اونٹ دیا، دو افراد اس پر سوار ہو جاتے تھے، اور ایک اسے ہانک کر لے کر چلتا تھا، صحراء میں ایسا ہوتا رہا، اسی دوران ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، تو میں پیدل چل رہا تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: اے رباح! میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم پیدل چل رہے ہو، میں نے عرض کی: میں ابھی تھوڑی دیر پہلے نیچے اترا ہوں اور اب یہ میرے دونوں ساتھی سواری کر رہے ہیں، پھر میں اپنے ساتھی کے پاس سے گزرا، انہوں نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا تھا اور وہ اس سے نیچے اتر آئے تھے، جب میں وہاں پہنچا، تو ان دونوں نے کہا: تم اس اونٹ کے آگے والے حصے پر سوار ہو جاؤ اور واپس جانے تک تم آگے والے حصے پر سوار ہو گے، میں اور میرا دوسرا ساتھی ہم پیچھے بیٹھیں گے، میں نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: تم دونوں کا ساتھی نیک آدمی ہے، تم نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے: وہ صدوق ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16158]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے: وہ صدوق ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16158]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4623)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً