مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
348. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16170
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: وُلِدْتُ فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ.
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حبشہ کی سرزمین پر پیدا ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس کا ایک اور طریق حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16170]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس کا ایک اور طریق حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16170]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/19)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16171
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَتْ بِي أُمِّي مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حِينَ مَاتَ أَبِي حَاطِبٌ، فَجَاءَتْ أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَصَابَ إِحْدَى يَدَيْ حَرِيقٌ مِنْ نَارٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، ابْنُ أَخِيكَ، وَقَدْ أَصَابَهُ هَذَا الْحَرْقُ مِنَ النَّارِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ: فَلَا أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَدْرِي أَنَفَثَ أَمْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَفِي ذَرِّيَّتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری والدہ مجھے حبشہ کی سرزمین سے لے کر آئیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب میرے والد سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ انتقال کر چکے تھے، تو میری والدہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں، راستے میں میرا ہاتھ آگ کی وجہ سے جل گیا تھا، میری والدہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ محمد بن حاطب ہے، آپ کا بھتیجا ہے، اسے آگ سے جلنے کی تکلیف لاحق ہوئی ہے، سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جھوٹی بات منسوب نہیں کروں گا، مجھے صحیح یاد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کیا تھا، یا میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا (ان میں سے کوئی ایک کام ہوا تھا) اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے برکت کی دعا کی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، حارث بن محمد بن حاطب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16171]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، حارث بن محمد بن حاطب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16171]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/19)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف