🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

349. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16172
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبَيْكَنْدِيَّ -: إِنَّمَا نَعُدُّ الشَّرَفَ مَا كَانَ قُبَيْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّصَلَ فِي الْإِسْلَامِ فَبَيَّتَ الْيُمْنُ الَّذِي فِي الصِّفَةِ عِبْدَ الْعِزِّ فِي كِنْدَةِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، وَفَارِسِهَا مِنْ زُبَيْدٍ: عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، وَشَاعِرِهَا: امْرِئِ الْقَيْسِ مِنْ كِنْدَةَ، لَا يُخْتَلَفُ فِي هَذَا.
قُلْتُ: مَا أَدْرِي مَعْنَاهُ.
محمد بن سلام بیکندی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کچھ پہلے سے لے کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس تک جس چیز کو شرف سمجھا جاتا تھا اور یہ چیز اسلام میں بھی شامل ہوئی، وہ یمن کا ایک گھرانہ ہے، جو صفہ میں کندہ میں تھا، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے شہوار زبید سے تعلق رکھتے تھے، عمرو بن معدیکرب ان کا شاعر تھا، امرءالقیس کندہ سے تعلق رکھتا تھا، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) مجھے نہیں پتہ کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16172]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (652)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16173
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ كِنْدَةَ دَيْنٌ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ بِالْأَسْحَارِ، فَأَدْرَكَتْنِي صَلَاةُ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ وَضَعَ قُدَّامَ كُلِّ إِنْسَانٍ حُلَّةً وَنَعْلًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ [ قَالَ: وَإِنْ كُنْتَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ ] ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: قَدِمَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ مَكَّةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے قرض لینا تھا، میں سحری کے وقت اس کے پاس آتا جاتا رہا، ایک دن میں فجر کی نماز کے بعد سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی مسجد میں موجود تھا، میں نے نماز ادا کی، جب امام نے سلام پھیرا، تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ہر شخص کے آگے ایک لباس اور ایک جوتا اور پانچ سو درہم رکھوائے، میں نے کہا: میں اس مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہوں، تو انہوں نے فرمایا: اگرچہ تم مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہو (پھر بھی اسے قبول کرو) تو میں نے کہا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں، جو مکہ سے آئے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16173]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (650)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16174
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ بِالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أُشِيرَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَطْلَقَ وَثَاقَهُ، وَزَوَّجَهُ أُخْتَهُ، فَاخْتَرَطَ سَيْفُهُ وَدَخَلَ سُوقَ الْإِبِلِ، فَجَعَلَ لَا يَرَى جَمَلًا وَلَا نَاقَةً إِلَّا عَرْقَبَهُ، وَصَاحَ النَّاسُ: كَفَرَ الْأَشْعَثُ، فَلَمَّا فَرَغَ طَرَحَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ، وَلَكِنْ زَوَّجَنِي هَذَا الرَّجُلُ أُخْتَهُ، وَلَوْ كُنَّا فِي بِلَادِنَا كَانَتْ لَنَا وَلِيمَةٌ غَيْرُ هَذِهِ، يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، انْحَرُوا وَكُلُوا، وَيَا أَهْلَ الْإِبِلِ، تَعَالَوْا خُذُوا شِرَاءَهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: جب سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا، انہوں نے ان کی بندش کھولی اور اپنی بہن کے ساتھ ان کی شادی کروا دی، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونتی، وہ اونٹوں کے بازار میں داخل ہوئے اور انہیں جو بھی اونٹ اور اونٹنی نظر آئے، وہ اس کے پاؤں کاٹتے گئے، لوگ بلند آواز میں کہنے لگے: سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کفر اختیار کر لیا ہے، جب سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس بات سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اپنی تلوار رکھی اور بولے: اللہ کی قسم! میں نے کفر نہیں کیا ہے، بلکہ ان صاحب نے (یعنی امیرالمؤمنین نے) اپنی بہن کے ساتھ میری شادی کی ہے، اگر ہم اپنے علاقے میں موجود ہوتے تو ہمارا ولیمہ اس سے زیادہ بڑا ہوتا، اے اہل مدینہ! تم ان سب جانوروں کو قربان کر کے ان کا گوشت کھاؤ، اور اے اونٹوں والو! تم آگے آؤ اور اپنا معاوضہ وصول کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف عبدالمؤمن بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16174]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (649)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں