مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
354. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّجَاشِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
نجاشی کے بارے میں، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16185
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنْ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16185]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16185]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2759)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16186
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: لَمَّا أَتَيْنَا النَّجَاشِيَّ فَأَرَدْنَا الْخُرُوجَ مِنْ عِنْدِهِ، حَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُوا صَاحِبَكُمْ بِمَا صَنَعْتُ بِكُمْ، وَهَذِهِ رُسُلِي مَعَكُمْ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي.
قَالَ جَعْفَرٌ: فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَنَقَنِي، وَقَالَ:" مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ". ثُمَّ جَلَسَ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ: هَذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ عَمَّا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا، فَقَالَ جَعْفَرٌ: قَدْ فَعَلَ بِنَا، وَحَمَلَنَا، وَزَوَّدَنَا، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ لَنَا: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي، فَدَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: آمِينَ قَالَ: فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: انْطَلِقْ فَأَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُمَا غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُمَا جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
قَالَ جَعْفَرٌ: فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَنَقَنِي، وَقَالَ:" مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ". ثُمَّ جَلَسَ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ: هَذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ عَمَّا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا، فَقَالَ جَعْفَرٌ: قَدْ فَعَلَ بِنَا، وَحَمَلَنَا، وَزَوَّدَنَا، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ لَنَا: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي، فَدَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: آمِينَ قَالَ: فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: انْطَلِقْ فَأَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُمَا غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُمَا جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم لوگ نجاشی کے پاس آئے، پھر ہم نے واپسی کا ارادہ کیا، تو اس نے ہمیں سواریاں فراہم کیں اور ہمیں زادراہ دیا اور ہمیں دوسری چیزیں دیں اور پھر بولا: میں نے تم لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، تم اس کے بارے میں اپنے آقا کو بتا دینا، یہ نمائندے تمہارے ساتھ ہیں، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں، تم اُن سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں۔
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم اس کے پاس سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب مجھ سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے مجھے گلے سے لگا لیا اور فرمایا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے یا جعفر کے آنے کی؟ پھر آپ تشریف فرما ہوئے، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا، اس نے کہا: یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا طرز سلوک اختیار کیا ہے؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا: اُس نے ہمارے ساتھ یہ، یہ کیا ہے، اس نے ہمیں سواریوں کے جانور دیے، ہمیں زاد سفر دیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اس نے یہ کہا: کہ آپ ان سے یہ کہہ دیجئے گا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا کی: اے اللہ! نجاشی کی مغفرت کر دے! اور مسلمانوں نے اس پر آمین کہا:، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے قاصد سے کہا: اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو وہ چیز بتا دینا، جو تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دیکھی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسد بن عمرو اور ایک راوی مجالد بن سعید ہیں، ایک سے زیادہ افراد نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16186]
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم اس کے پاس سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب مجھ سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے مجھے گلے سے لگا لیا اور فرمایا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے یا جعفر کے آنے کی؟ پھر آپ تشریف فرما ہوئے، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا، اس نے کہا: یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا طرز سلوک اختیار کیا ہے؟ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا: اُس نے ہمارے ساتھ یہ، یہ کیا ہے، اس نے ہمیں سواریوں کے جانور دیے، ہمیں زاد سفر دیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اس نے یہ کہا: کہ آپ ان سے یہ کہہ دیجئے گا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا کی: اے اللہ! نجاشی کی مغفرت کر دے! اور مسلمانوں نے اس پر آمین کہا:، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے قاصد سے کہا: اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو وہ چیز بتا دینا، جو تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دیکھی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسد بن عمرو اور ایک راوی مجالد بن سعید ہیں، ایک سے زیادہ افراد نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16186]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2756)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16187
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:" وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ". قَالَ: نَزَلَتْ فِي النَّجَاشِيِّ وَأَصْحَابِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت نازل ہوئی:
”جب ان لوگوں نے وہ چیز سنی، جو رسول کی طرف نازل کی گئی تھی، تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ اُن سے آنسو جاری ہو گئے۔“
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف محمد بن عثمان بن بحر عقیلی کا عامل مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16187]
”جب ان لوگوں نے وہ چیز سنی، جو رسول کی طرف نازل کی گئی تھی، تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ اُن سے آنسو جاری ہو گئے۔“
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف محمد بن عثمان بن بحر عقیلی کا عامل مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16187]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2758)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16188
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ". فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: يَأْمُرُنَا أَنْ نَسْتَغْفِرَ لَهُ وَقَدْ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَنَزَلَتْ:" وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ" الْآيَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، أَحَدُهُمَا قَالَ فِيهِ:" صَلُّوا عَلَيْهِ".
وَقَدْ تَقَدَّمَتْ فِي الْجَنَائِزِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ، وَفِي هَذِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ. وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، أَحَدُهُمَا قَالَ فِيهِ:" صَلُّوا عَلَيْهِ".
وَقَدْ تَقَدَّمَتْ فِي الْجَنَائِزِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ، وَفِي هَذِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ. وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نجاشی کا انتقال ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو! بعض لوگوں نے کہا: یہ ہمیں اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا کہہ رہے ہیں حالانکہ وہ حبشہ کی سرزمین پر فوت ہوا ہے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
”اہل کتاب میں سے کچھ لوگ وہ ہیں، جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، ان دو اسناد میں سے ایک میں انہوں نے یہ کہا: ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے لئے دعائے رحمت کرو۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں، غائبہ نماز سے متعلق باب میں، روایت گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16188]
”اہل کتاب میں سے کچھ لوگ وہ ہیں، جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، ان دو اسناد میں سے ایک میں انہوں نے یہ کہا: ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے لئے دعائے رحمت کرو۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں، غائبہ نماز سے متعلق باب میں، روایت گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
اس سے پہلے کتاب الجنائز میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 16188]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2688)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن