المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
322. ما روى ابن عباس، عن سودة
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حدیث نمبر: 20466
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا غَالِبُ بْنُ قَائِدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ فَطَرَحْنَاهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا فَسَلَخْنَا جِلْدَهَا، ثُمَّ دَبَغْنَاهُ فَجَعَلْنَاهُ سُقْيًا فَشَرِبْنَا فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا"
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی تو ہم نے اسے پھینک دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ تو ہم نے اسے منگوایا اور اس کی کھال اتاری، پھر اسے رنگا اور مشکیزہ بنا لیا، اور اس میں سے پیتے رہے یہاں تک کہ وہ بوسیدہ مشکیزہ بن گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20466]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 35، حدیث 95»
حدیث نمبر: 20467
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ شَاةً لِسَوْدَةَ مَاتَتْ، قَالَتْ: «فَدَبَغْنَا جِلْدَهَا فَكُنَّا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا بَالِيًا»
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم نے اس کی کھال رنگی، پھر ہم اس میں نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ ایک بوسیدہ مشکیزہ بن گیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20467]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 36، حدیث 96»
حدیث نمبر: 20468
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مَنْفَعُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا، فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا»
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا زوجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتی ہیں: ”ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی، تو ہم نے اس کی کھال رنگی، پھر ہم اس میں نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانا بوسیدہ مشکیزہ بن گیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20468]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 36، حدیث 97»
حدیث نمبر: 20469
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ، قَالَتْ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ: «هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا»
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20469]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 36، حدیث 98»
حدیث نمبر: 20470
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ فَرَمَيْنَا بِهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ؟» قُلْنَا: مَاتَتْ فَطَرَحْنَاهَا، فَقَالَ: «أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» فَقُلْتُ: هِيَ مَيْتَةٌ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ مَيْتَةً} «إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَطْعَمُوهَا» فَأَرْسَلُوا بِإِهَابِهَا فَدَبَغُوهُ، فَاتَّخَذُوهُ حَتَّى كَانَ عِنْدَهُمْ شَنًّا"
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی تو ہم نے اسے پھینک دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہاری بکری کا کیا ہوا؟“ ہم نے عرض کیا: مر گئی، ہم نے اسے پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ میں نے عرض کیا: یہ تو مردار ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ”کہہ دیجیے: مجھے جو وحی کی گئی ہے اس میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو،“ ”اللہ نے تم پر صرف اس کا کھانا حرام کیا ہے۔“ تو انہوں نے اس کی کھال منگوائی اور اسے رنگا اور اسے استعمال میں لاتے رہے یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ایک پرانا بوسیدہ مشکیزہ بن گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20470]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 36، حدیث 99»
حدیث نمبر: 20471
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، أَنَّ شَاةً لَهُمْ مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا أَخَذْتُمْ جِلْدَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ وَانْتَفَعْتُمْ بِهِ»
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک بکری مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کیوں نہ لے کر رنگ لی اور اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20471]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 37، حدیث 100»