🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4907. 25- باب قوله: أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (122)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”بھلا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کے لیے ایک ایسی روشنی مہیا کر دی جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے اور وہاں سے نکلنے والا نہیں ہے؟ اسی طرح کافروں کے لیے ان کے وہ کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں جو وہ انجام دیتے تھے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12317
12317- عن عبد الله بن عمرو قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله عز وجل خلق خلقه في ظلمة، ثم ألقى عليهم من نوره يومئذ، فمن أصابه من نوره يومئذ اهتدى، ومن أخطأه ضل، فلذلك أقول: جف القلم على علم الله عز وجل.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه أحمد (6644) عن معاوية بن عمرو، حدثنا إبراهيم بن محمد أبو إسحاق الفزاري، حدثنا الأوزاعي، حدثني ربيعة بن زيد، عن عبد الله الديلمي قال: دخلت على عبد الله بن عمرو فذكره.انظر للمزيد: كتاب القدر.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں