السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. -- باب التطهير بماء البئر
-- کنویں کے پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ؟ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا النَّتْنُ، وَالْجِيفَةُ، وَالْمَحِيضُ، وَالْكِلَابُ. فَقَالَ:" الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ. قَالَ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَالْحَدِيثُ عَلَى طَهُورِهِ إِذَا لَمْ تُلْقَ فِي الْبِئْرِ نَجَاسَةٌ، فَإِذَا أُلْقِيَتْ فِيهَا نَجَاسَةٌ فَمَعْنَى الْحَدِيثِ فِيمَا بَلَغَ قُلَّتَيْنِ، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ وَدَلِيلُهُ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(الف) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ کنویں کے پانی سے وضو کر لیں اور اس میں گندگی، گلا سڑا گوشت، حیض والے کپڑے اور مردار کتے پھینکے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [صحیح]
(ب) شیخ احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث میں اس کنویں سے طہارت حاصل کرنے پر دلیل ہے جس میں نجاست نہ پھینکی جائے۔ اگر اس میں نجاست پھینکی جائے تو حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب پانی دو مٹکے ہو اور (اس کا ذائقہ، رنگ اور بو) تبدیل نہ ہوئی ہو۔ اس کا ذکر اصل جگہ پر آ جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 6]
(ب) شیخ احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث میں اس کنویں سے طہارت حاصل کرنے پر دلیل ہے جس میں نجاست نہ پھینکی جائے۔ اگر اس میں نجاست پھینکی جائے تو حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب پانی دو مٹکے ہو اور (اس کا ذائقہ، رنگ اور بو) تبدیل نہ ہوئی ہو۔ اس کا ذکر اصل جگہ پر آ جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 6]