السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. -- باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة
-- باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيَّ فَرْوًا فَمَسَسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنْا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَنُؤتَى بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دِبَاغُهُ طَهُورُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ.
ابو الخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن وعلہ سبائی رحمہ اللہ پر بالوں کا بنا ہوا لباس دیکھا تو میں نے اس کپڑے کو چھوا، انہوں نے پوچھا: تم اس کو چھو کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہم مغرب میں بربر اور مجوس قوم کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں، وہ ذبح کرتے تھے، ہم ان کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پاس مشکیزے لائے جاتے ہیں جن میں چربی ہوتی ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا رنگنا اس کا پاک کرنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 106»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ بِالْكُوفَةِ وَكَانَ أَصْلُهُ بِصْرِيًّا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ:" فِي الْفِرَاءِ ذَكَاتُهُ دِبَاغُهُ". هَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «الفِرَاءُ» (چمڑے) کے متعلق ارشاد فرمایا: اس کا پاک ہونا رنگنے سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليليٰ»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 87
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَأَتَاهُ رَجُلٌ ذُو ضَفِيرَتَيْنِ فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ الدِّبَاغُ". قَالَ ثَابِتٌ: فَلَمَّا وَلَّى قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ ⦗٣٩⦘ قَالَ: سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ. رَوَاهُ بَعْضُ النَّاسِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى بِإِسْنَادِهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ وَهُوَ غَلَطٌ.
سیدنا ثابت بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دو چوٹیوں والا ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے ابو عیسیٰ! اس کے بارے میں بیان کریں جو آپ نے فراء (چمڑے) کے بارے میں اپنے والد سے سنا، انہوں نے فرمایا: مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فراء (چمڑے) پر نماز پڑھ لوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَيْنَ الدِّبَاغُ؟» ”دباغت کس لیے ہے؟“ سیدنا ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ۔
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 87]
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلـٰي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ يُعْرَفُ بِأَبِي الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ الدِّبَاغُ". فَالْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا كَثِيرُ الْوَهْمِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! فراء نامی چمڑے پر نماز پڑھنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کس لیے ہے؟“ (یعنی رنگنے کے بعد اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں)
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 88]
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «ضعيف: وفيه محمد بن أبي ليلي»
الحكم على الحديث: ضعيف: وفيه محمد بن أبي ليلي
حدیث نمبر: 89
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْفِرَاءِ، فَقَالَتْ:" لَعَلَّ دِبَاغَهَا يَكُونُ ذَكَاتَهَا".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے «الْفِرَاء» (چمڑے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: امید ہے کہ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «في سنده الأعمش الحافظ الثقة المدلس…»
الحكم على الحديث: في سنده الأعمش الحافظ الثقة المدلس…
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَأَلَ دَاوُدُ السَّرَّاجُ الْحَسَنَ، عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ وَالسَّمُورِ تُدْبَغُ بِالْمِلْحِ؟ فَقَالَ:" دِبَاغُهَا طَهُورُهَا". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ فِي صُوفِ الْمَيْتَةِ: اغْسِلْهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَالْحَكَمِ وَحَمَّادٍ أَنَّهُمْ كَرِهُوا اسْتِعْمَالَ شَعْرِ الْخِنْزِيرِ.
حضرت داؤد سراج رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے چیتوں اور سمور کی کھال کے متعلق پوچھا کہ اگر انہیں نمک سے دباغت دی جائے تو انہوں نے فرمایا: ”ان کو دباغت دینا ان کو پاک کرنا ہے۔“
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 90]
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه داؤد السراج وهو التقفي المصري»
الحكم على الحديث: ضعيف