السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. -- باب في شعر النبي صلى الله عليه وسلم
-- باب: نبی ﷺ کے موئے مبارک کے بیان میں
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَنَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ"..
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ میں رمی کی اور اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا۔ پھر اپنے سر کی دائیں جانب حجام کے سامنے کی، حجام نے اس کو مونڈ دیا۔ پھر وہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔ پھر بائیں جانب اس کے سامنے کی تو اس نے اسے بھی مونڈ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”انھیں لوگوں میں تقسیم کر دے۔“
(ب) صحیح مسلم والی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 91]
(ب) صحیح مسلم والی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 326»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ، ثنا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، شَهِدَ الْمَنْحَرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ:" فَقَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَلَمْ يُصِبْهُ، وَلَا صَاحِبَهُ". قَالَ:" فَحَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَّمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ، فَإِنْهُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ" تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبَانَ. وَالْخِضَابُ مِنْ عِنْدِهِمْ لِكَيْلَا يَتَغَيَّرَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا محمد بن عبداللہ بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد قربان گاہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہاں ایک انصاری بھی تھا۔ میرے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو مجھے اور انصاری کو (قربانی) نہ ملی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے پر اپنا سر منڈوایا تو مجھے وہ بال دے دیے، میں نے آدمیوں میں تقسیم کر دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن اتارے اور اپنے ساتھی کو دے دیے، وہ ہمارے پاس بھی ہیں اور وہ مہندی وغیرہ کے ساتھ رنگے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أحمد 4/42»
الحكم على الحديث: صحيح