🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

21. -- باب المنع من الادهان في عظام الفيلة، وغيرها مما لا يؤكل لحمه
-- باب: ہاتھی اور ان دیگر جانوروں کی ہڈیوں (کے برتنوں) میں تیل رکھنے کی ممانعت کا بیان جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَأَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلیوں والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1937»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْبُوشْنَجِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: وَأنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُكَيْمٍ، ثنا مَشْيَخَةٌ، لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ:" لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِشَيْءٍ".
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں جہینہ قبیلے کے مشائخ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خط لکھا کہ ”مردار کی کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد سبق تخريجه في حديث 41‘42‘43»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ ⦗٤١⦘ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ،" يَكْرَهُ أَنْ يُدَّهَنَ، فِي مِدْهَنٍ مِنْ عِظَامِ الْفِيلِ لِأَنَّهُ مَيْتَةٌ". هَكَذَا ذَكَرَهُ فِي الْجَدِيدِ. وَرَوَاهُ فِي الْقَدْيمِ كَمَا.
حضرت عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق سنا کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں میں تیل وغیرہ رکھنا ناپسند کرتے تھے، کیونکہ وہ مردار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ قد أخرجه المؤلف في معرفة السنن 36»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" كَرِهَ أَنْ يُدَّهَنَ، فِي عَظْمِ فِيلٍ". وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ عِظَامَ الْفِيلِ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ الِانْتِفَاعَ بِعِظَامِ الْفِيَلَةِ وَأَنْيَابِهَا. وَعَنْ طَاوُسٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُمَا كَرِهَا الْعَاجَ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈی سے بنی ہوئی چیز میں تیل رکھنا ناپسند کرتے تھے۔ دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں: وہ ہاتھی کی ہڈیوں کو (استعمال کرنا) ناپسند کرتے تھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں اور دانتوں سے فائدہ اٹھانا مکروہ سمجھتے تھے۔
(ج) طاؤس رحمہ اللہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ دونوں ہاتھی کے دانت کا استعمال کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «باطل»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَظَنَّتْ إِنَّمَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ:" يَا ثَوْبَانُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا. يَا ثَوْبَانُ، اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ هَذَا إِنَّمَا أُنْكِرُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ حَدِيثُهُ لَمْ أَعْلَمْ لَهُ غَيْرَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيِّ بْنِ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، هَذَا، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: فَحُمَيْدٌ الشَّامِيُّ كَيْفَ حَدِيثُهُ الَّذِي يَرْوِي حَدِيثَ ثَوْبَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ؟ فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُمَا. ⦗٤٢⦘ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ مُنْكَرٌ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنے اہل میں سے سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سب سے پہلے تشریف لاتے۔ ایک غزوہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹک رہا تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اندر داخل نہیں ہوئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گمان کیا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ہے، اس نے داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ پھاڑ دیا اور بچوں سے کنگن اتار دیے اور انہیں ان دونوں کے درمیان کاٹ دیا، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور دونوں رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے وہ لے لیا اور فرمایا: ”اے ثوبان! اس کو فلاں کی طرف لے جاؤ (مدینہ میں فلاں گھر کی طرف)، کیونکہ یہ میرے اہل بیت ہیں، میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ اپنی پاکیزہ چیزیں دنیا کی زندگی ہی میں کھا لیں۔ اے ثوبان! فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لیے پٹھوں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے دو کنگن خرید کر لے آؤ۔“
ابو احمد بن عدی کہتے ہیں: حمید شامی پر یہی حدیث منکر قرار دی گئی ہے اور میرے علم میں اس کی اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حمید شامی کے بارے میں فرمایا: میں اسے نہیں جانتا۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: میں ان دونوں (حمید شامی اور سلیمان منبہی) کو نہیں جانتا۔ اس بارے میں ایک اور منکر حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4231»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِهِ الْجُرْجُسِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ طَهُورَهُ وَسِوَاكَهُ وَمِشْطَهُ، فَإِذَا هَبَّهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ اللَّيْلِ اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ وَامْتَشَطَ". قَالَ:" وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَشَّطُ بِمُشْطٍ مِنْ عَاجٍ". قَالَ عُثْمَانُ: هَذَا مُنْكَرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ بَقِيَّةَ عَنْ شِيُوخِهِ الْمَجْهُولِينَ ضَعِيفَةٌ. وَقَدْ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ الْعَاجُ الذَّبْلُ وَيُقَالُ: هُوَ عَظْمُ ظَهْرِ السُّلَحْفَاةِ الْبَحْرِيَّةِ. وَأَمَّا الْعَاجُ الَّذِي تَعْرِفُهُ الْعَامَّةُ فَهُوَ عَظْمُ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ وَهُوَ مَيْتَةٌ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا پانی والا برتن، مسواک اور کنگھی بھی رکھتے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں بیدار کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، وضو کرتے اور کنگھی کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی کرتے تھے۔
(ب) عثمان کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا: بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور جس عاج کو عام لوگ جانتے ہیں وہ ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی ہے اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔
بقیہ کی اپنے مجہول شیوخ سے روایت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ففيه بقية بن وليد۔ المدلس المعروف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں