السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. -- باب: الدليل على أن الكعبين هما الناتيان في جانبي القدم
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ ٹخنے وہ ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو قدم کے دونوں جانب ہوتی ہیں
حدیث نمبر: Q357
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صِفَةِ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ لِكُلِّ رِجْلٍ كَعْبَيْنِ.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ گزر چکا ہے کہ: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا۔“
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر پاؤں کے دو ٹخنے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: Q357]
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر پاؤں کے دو ٹخنے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: Q357]
حدیث نمبر: 357
حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنِ بَشِيرٍ، يَقُولُ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثَلَاثًا، وَاللهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ كَعْبَهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ، وَمَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِهِ".
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخِ انور کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور تین مرتبہ فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کرو، اللہ کی قسم! ضرور تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔“ راوی کہتا ہے: میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ چمٹائے ہوئے تھا اور اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے کندھے کو اس کے کندھے کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 357]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 662»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 358
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، وَأَنَا فِي بِيَاعَةٍ لِي، فَمَرَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا". وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ، قَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ يَعْنِي أَبَا لَهَبٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز بازار سے گزرتے ہوئے دیکھا، میں اپنا مال بیچ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سرخ جبہ تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہو فلاح پا جاؤ گے۔“ اور ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پتھر مار رہا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنوں کو لہولہان کر دیا تھا، وہ ابو لہب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 358]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الحاكم 2/668»
الحكم على الحديث: حسن