السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. -- باب: تفريق الوضوء
-- باب: وضو کے افعال کو متفرق (وقفے وقفے سے) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاودَ، نا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيْرٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مَعْدَانَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ". كَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرُوِيَ فِي حَدِيثٍ مَوْصُولٍ.
ابن معدان رحمہ اللہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس کے پاؤں پر درہم کے برابر جگہ تھی جس کو پانی نہیں لگا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ”وضو اور نماز لوٹانے“ کا حکم دیا۔
(ب) اسی طرح مرسل روایت میں ہے اور موصول میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 392]
(ب) اسی طرح مرسل روایت میں ہے اور موصول میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 175»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 393
كَمَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاودَ، نا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسٌ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ". قَالَ أَبُو دَاودَ: وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِمَعْرُوفٍ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ، يَعْنِي بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ أَبُو دَاودَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ قَتَادَةَ. وَهَذَا مُرْسَلٌ، قَالَ أَبُو دَاودَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے وضو کیا ہوا تھا اور اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا اور اچھی طرح وضو کر۔“
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث معروف نہیں ہے اور جریر بن حازم سے اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن (بصری) نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 393]
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث معروف نہیں ہے اور جریر بن حازم سے اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن (بصری) نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 393]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 173»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 394
وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ". فَرَجَعَ، ثُمَّ صَلَّى. ⦗١٣٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ الْبَزَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، نا مَعْقِلٌ فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ، يَعْنِي عَنِ الْحَسَنِ، وَرَوَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ بِخِلَافِ مَا رَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا اور اچھی طرح وضو کر۔“ وہ واپس گیا، پھر نماز ادا کی۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معقل نے پچھلی حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 394]
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معقل نے پچھلی حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 394]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه مسلم 243»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا يَتَوَضَّأُ، فَبَقِيَ فِي رِجْلِهِ لُمْعَةٌ، فَقَالَ:" أَعِدِ الْوُضُوءَ". وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ، وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ عُمَرَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُ بِالْوضُوءِ كَانَ عَلَى طَرِيقِ الِاسْتِحْبَابِ، وَإِنَّمَا الْوَاجِبُ غَسْلُ تِلْكَ اللُّمْعَةِ فَقَطْ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، اس کے پاؤں میں ایک جگہ خشک رہ گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دوبارہ وضو کر۔
(ب) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے وضو کرنے کا جو حکم دیا وہ مستحب ہے اور صرف پاؤں دھونا واجب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 395]
(ب) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے وضو کرنے کا جو حکم دیا وہ مستحب ہے اور صرف پاؤں دھونا واجب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 396
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَارِثُ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، نا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَأَى رَجُلًا وَبِظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" أَبِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلَاةَ؟" فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الْبَرْدُ شَدِيدٌ، وَمَا مَعِيَ مَا يُدْفِئُنِي، فَرَقَّ لَهُ بَعْدَمَا هَمَّ بِهِ، فَقَالَ لَهُ:" اغْسِلْ مَا تَرَكْتَ مِنْ قَدَمِكَ، وَأَعِدِ الصَّلَاةَ، وَأَمَرَ لَهُ بِخَمِيصَةٍ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے پاؤں پر کچھ جگہ کو پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وضو کے ساتھ تو نماز میں حاضر ہوگا؟ اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین! سخت سردی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے (پہلے) اس پر سختی کا ارادہ کیا تھا، پھر اس پر نرم پڑ گئے اور فرمایا: اپنے پاؤں کی وہ جگہ دھو جو تو نے چھوڑی ہے اور نماز دوبارہ لوٹا اور اس کو ایک اونی چادر دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/109»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 397
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْمِهْرَجَانِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَوَضَّأَ فِي السُّوقِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ بَعْدَ مَا جَفَّ وُضُوءُهُ وَصَلَّى". وَهَذَا صَحِيحٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَمَشْهُورٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَكَانَ عَطَاءٌ لَا يَرَى بِتَفْرِيقِ الْوُضُوءِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَالنَّخَعِيِّ وَأَصَحُّ قُولَيِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(الف) نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بازار میں وضو کیا تو اپنے ہاتھ، چہرے اور بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ان کا وضو خشک ہو چکا تھا، پھر نماز ادا کی۔
(ب) یہ روایت صحیح ہے، اس کے راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور قتیبہ سے ان الفاظ کے ساتھ مشہور ہے۔
(ج) عطاء تابعی رحمہ اللہ وضو کی تفریق میں حرج نہیں سمجھتے تھے، یہی قول حسن رحمہ اللہ، نخعی رحمہ اللہ کا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے زیادہ صحیح یہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 397]
(ب) یہ روایت صحیح ہے، اس کے راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور قتیبہ سے ان الفاظ کے ساتھ مشہور ہے۔
(ج) عطاء تابعی رحمہ اللہ وضو کی تفریق میں حرج نہیں سمجھتے تھے، یہی قول حسن رحمہ اللہ، نخعی رحمہ اللہ کا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے زیادہ صحیح یہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 398
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَوْ عَنْ أَخِي أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا ⦗١٣٧⦘ عَلَى أَعْقَابِ أَحَدِهِمْ مِثْلُ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ أَوْ مِثْلُ مَوْضِعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ". قَالَ: وَكَانَ أَحَدُهُمْ يَنْظُرُ أَنَّهُ إِذَا رَأَى بِعَقِبِهِ مَوْضِعًا لَمْ يصِبْهُ الْمَاءُ أَعَادَ وُضُوءَهُ. وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَشَيْءٌ اخْتَارُوهُ لِأَنْفُسِهِمْ وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يرِيدَ بِهِ إِعَادَةَ وُضُوءِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ فَقَطْ.
سیدنا ابو امامہ یا ان کے بھائی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا، ان کی ایڑیوں پر درہم یا ناخن کے برابر جگہ پر پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ایڑیوں کی جگہ کو دیکھتا، اگر ان کو پانی نہ پہنچا ہوتا تو اپنا وضو دوبارہ کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 398]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/108»
الحكم على الحديث: ضعيف