السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. -- باب: ما ورد في الاستنجاء بالتراب
-- باب: مٹی سے استنجاء کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 537
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو بِشْرٌ، عَنْ طَاؤُسٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إسحاق الْحَافِظُ، أنا أَبُو إسحاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَاؤسٍ، قَالَ:" الِاسْتِنْجَاءُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ بِثَلَاثَةِ أَعْوَادٍ. قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ مِنَ التُّرَابِ" ⦗١٧٩⦘ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ طَاؤسٍ مِنْ قَوْلِهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ طَاؤسٍ. وَرَوَاهُ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ، فَرَفَعَهُ مُرْسَلًا.
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تین پتھروں سے یا تین لکڑیوں سے استنجاء کرنا (مسنون) ہے، میں نے کہا: اگر نہ ملیں تو؟ انہوں نے کہا: تین لپ مٹی کے۔ طاؤس رحمہ اللہ سے یہی صحیح ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1639»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 538
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْبَرَازَ فَلْيُكْرِمْ قِبْلَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا يَسْتَقْبِلْهَا وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، ثُمَّ لِيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ بِثَلَاثَةِ أَعْوَادْ أَوْ ثَلَاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ لِيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَ عَنَى مَا يُؤْذِينِي، وَأَمْسَكَ عَلَيَّ مَا يَنْفَعُنِي". هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، وَوَكِيعٌ، وَغَيْرُهُمْ، عَنْ زَمْعَةَ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُضَرِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ زَمْعَةَ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلَا يَصِحُّ وَصْلُهُ وَلَا رَفْعُهُ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ: أَكَانَ زَمْعَةُ يَرْفَعُهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". فَسَأَلْتُ سَلَمَةَ عَنْهُ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ، يَعْنِي لَمْ يرْفَعْهُ.
سلمہ بن وهرام کہتے ہیں: میں نے طاؤس رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اللہ کے قبلے کی عزت کرے، نہ اس کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ، پھر تین پتھر یا تین لکڑیاں یا مٹی کے تین لپوں کے ساتھ استنجا کرے، پھر کہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي مَا يُؤْذِينِي وَأَمْسَكَ عَلَيَّ مَا يَنْفَعُنِي» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو نکال دیا اور نفع والی چیز کو روک لیا۔““
احمد بن حسن مضری، جس نے اسے ابو عاصم کے واسطے سے زمعہ سے روایت کیا ہے، کذاب اور متروک ہے۔ اس روایت کا (ابن عباس رضی اللہ عنہما تک) متصل ہونا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 538]
احمد بن حسن مضری، جس نے اسے ابو عاصم کے واسطے سے زمعہ سے روایت کیا ہے، کذاب اور متروک ہے۔ اس روایت کا (ابن عباس رضی اللہ عنہما تک) متصل ہونا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/57»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 539
وَقَدْ رَوَى مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ التَّغَوُّطِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَعْلِيَ الرِّيحَ وَأَنْ يَتَنَكَّبَ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَقْبِلَهَا وَلَا يَسْتَدْبِرَهَا، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَلَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، أَوْ ثَلَاثَةِ أَعْوَادٍ، أَوْ ثَلَاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، فَذَكَرَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَى قُتَيْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا، وَذَلِكَ يَرِدُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پاخانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ ”ہوا کے رخ سے اوپر رہے اور قبلہ کی جانب نہ منہ کرے اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں سے استنجا کرے، لیکن اس میں گوبر نہ ہو یا تین لکڑیوں سے یا مٹی کے تین چلو سے استنجا کرے۔“
(ب) امام ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبشر بن عبید کے علاوہ اس روایت کو کوئی بیان نہیں کرتا اور وہ متروک الحدیث ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے، اور وہ مردود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 539]
(ب) امام ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبشر بن عبید کے علاوہ اس روایت کو کوئی بیان نہیں کرتا اور وہ متروک الحدیث ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مرفوعاً منقول ہے، اور وہ مردود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الدار قطني 1/56»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 540
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، نا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَوْلَى عُمَرَ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا بَالَ قَالَ:" نَاوِلْنِي شَيْئًا أَسْتَنْجِي بِهِ" قَالَ: فَأُنَاوِلُهُ الْعُودَ وَالْحَجَرَ، أَوْ يَأْتِي حَائِطًا يَمْسَحُ بِهِ أَوْ يَمَسَّ الْأَرْضَ، وَلَمْ يَكُنْ يَغْسِلُهُ" وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَعْلَاهُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یسار بن نمیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب پیشاب کرتے تو کہتے: مجھے کوئی چیز دو جس سے میں استنجا کروں، راوی کہتا ہے: میں ان کو لکڑی اور پتھر دیتا یا آپ دیوار کے پاس آتے اور اس سے مسح کرتے یا زمین کو چھوتے اور اس کو دھوتے نہیں تھے۔
یہ اس باب میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح اور سب سے عالی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 540]
یہ اس باب میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح اور سب سے عالی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف