السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
147. -- باب: الوضوء من مس الذكر
-- باب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 626
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ⦗٢٠٧⦘ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، نا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَبَلَغَنِي، عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ أُمِّ حَبِيبَةَ فَاسْتَحْسَنَهُ وَرَأَيْتُهُ كَانَ يَعُدُّهُ مَحْفُوظًا.
ام المؤمنین حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے۔“
امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو زرعہ سے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے حسن قرار دیا، اور میں نے دیکھا کہ وہ اسے محفوظ شمار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 626]
امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو زرعہ سے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے حسن قرار دیا، اور میں نے دیکھا کہ وہ اسے محفوظ شمار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن ماجه 481»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 627
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے اس پر وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن عدي 2/413»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 628
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أُمْسِكُ الْمُصْحَفَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَاحْتَكَكْتُ قَالَ سَعْدٌ:" لَعَلَّكَ مَسَسْتَ ذَكَرَكَ" فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ:" قُمْ فَتَوَضَّأْ" فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ"، ⦗٢٠٨⦘.
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو قرآن پکڑاتا تھا، میں نے خارش کی تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تو نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے کہا: کھڑا ہو، وضو کر، میں کھڑا ہوا، میں نے وضو کیا، پھر واپس لوٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 90»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 629
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو اس پر وضو کرنا واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 91»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 630
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنِ عُمَرَ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ مَا يُجْزِيكَ الْغُسْلُ مِنَ الْوُضُوءِ؟ قَالَ:" بَلَى وَلَكِنِّي أَحْيَانًا أَمَسُّ ذَكَرِي فَأَتَوَضَّأُ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ پہلے غسل کرتے تھے پھر وضو کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابا جان! کیا غسل وضو سے کفایت کر جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں کبھی کبھی اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہوں تو میں وضو کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 93»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 631
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرِهِ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَذِهِ صَلَاةٌ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا، فَقَالَ أَبِي:" بَعْدَ أَنْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ مَسَسْتُ ذَكَرِي ثُمَّ نَسِيتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ عُدْتُ لِصَلَاتِي".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے آپ کو سورج طلوع ہونے کے بعد دیکھا، آپ نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا: یہ آپ نے کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے صبح کی نماز کے لیے وضو کیا، پھر میں نے اپنی شرم گاہ کو چھوا اور میں بھول گیا، اب پھر میں نے وضو کیا اور اپنی نماز دوبارہ لوٹائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 94»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 632
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ عَنْ مُسْلِمٍ، وَسَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَؤُمُّ النَّاسَ إِذْ زَلَّتْ يَدُهُ عَلَى ذَكَرِهِ فَأَشَارَ إِلَى النَّاسِ أَنِ امْكُثُوا ثُمَّ خَرَجَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَمَّ بِهِمْ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ.
(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کروا رہے تھے، اس دوران انہوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا تو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے، وضو کیا، پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 632]
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کروا رہے تھے، اس دوران انہوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا تو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے، وضو کیا، پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 92»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 633
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِئُ، نا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ هُوَ الطَّحَاوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ" يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرُهُ يَتَوَضَّأُ" قَالَ: شُعْبَةُ، فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ، عَمَّنْ هَذَا فَقَالَ: عَنْ عَطَاءٍ.
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی شرمگاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے قتادہ سے پوچھا: یہ روایت کس کی ہے؟ انہوں نے کہا: عطاء کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطحاوي في شرح المعاني 1/76»
الحكم على الحديث: ضعيف