السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. -- باب: ترك الوضوء مما مست النار
-- باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 711
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، نا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 48»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يَعْنِي هِشَامٌ: وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يَعْنِي هِشَامٌ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ كَتِفًا - أَوْ لَحْمًا - ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَمَضْمَضْ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کا گوشت یا (فرمایا:) گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، نہ کلی کی اور نہ ہی پانی کو چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 354»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗٢٣٨⦘ الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ يَعْجَبُ مِمَّنْ يَزْعُمُ أَنَّ الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، وَيُضْرَبُ فِيهِ الْأَمْثَالُ وَيَقُولُ:" إِنَّا نَسْتَحِمُّ بِالْمَاءِ الْمُسَخَّنِ وَنَتَوَضَّأُ بِهِ وَنَدَّهِنُ بِالدُّهْنِ الْمَطْبُوخِ" وَذَكَرَ أَشْيَاءَ مِمَّا يُصِيبُ النَّاسَ مِمَّا قَدْ مَسَّتِ النَّارُ ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي هَذَا الْبَيْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي الْحُجُرَةِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ عُضْوٌ مِنْ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ شَهِدَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر مسجد میں تھا۔ وہ اس شخص پر تعجب کرنے لگے جو کہتا تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، اور مثالیں بیان کرنے لگے اور کہنے لگے: ہم گرم پانی سے نہاتے تھے اور وضو کرتے تھے اور ہم مطبوخ تیل استعمال کرتے تھے۔
اور انہوں نے اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو لوگ استعمال کرتے تھے اور وہ آگ پر پکی ہوتی تھیں۔ پھر فرمایا: میں نے اپنے آپ کو اس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کپڑے پہنے۔ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے حجرے میں تشریف لائے جو گھر سے باہر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا گوشت پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک یا دو لقمے کھائے۔ پھر نماز پڑھی اور پانی کو نہیں چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 713]
اور انہوں نے اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو لوگ استعمال کرتے تھے اور وہ آگ پر پکی ہوتی تھیں۔ پھر فرمایا: میں نے اپنے آپ کو اس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کپڑے پہنے۔ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے حجرے میں تشریف لائے جو گھر سے باہر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا گوشت پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک یا دو لقمے کھائے۔ پھر نماز پڑھی اور پانی کو نہیں چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 359»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 714
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بکری کے کندھے کو کاٹ رہے تھے، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اور چھری کو پھینک دیا اور جا کر نماز پڑھائی، لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 714]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5092»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ وَطَرَحَ السِّكِّينَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
(الف) جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بھنی ہوئی) بکری کا کندھا کاٹتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھایا، پھر جب نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور چھری کو پھینک دیا، پھر نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) علی بن عبداللہ بن عباس اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا (بھنا ہوا) کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(د) ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کا پیٹ بھونا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 715]
(ب) علی بن عبداللہ بن عباس اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا (بھنا ہوا) کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(د) ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کا پیٹ بھونا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم357»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 716
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قِرَاءَةً قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَا: سَمِعْنَا عَائِشَةَ تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَمُرُّ عَلَى الْقِدْرِ فَيَأْخُذُ مِنْهَا الْعَرْقَ فَيَأْكُلُ مِنْهُ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَتَوَضَّأُ وَلَا يُمَضْمِضُ".
عکرمہ اور عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہانڈی کے پاس سے گزرے، اس سے گوشت والی ہڈی لے کر کھائی، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نہ وضو کیا، نہ کلی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 717
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ" أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی چانپ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي 1829»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 718
وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، وَزَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پچھلی روایت کی طرح بیان فرماتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو يعلي 6985»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبِ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو جَدِّي عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ لَحْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَفِي الْبَابِ عَنْ: عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَغَيْرِهِمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ⦗٢٤٠⦘ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا".
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کھایا پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 719]
(ب) ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 3/307»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، نا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَقِيلٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
(الف) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 720]
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 351»
الحكم على الحديث: صحيح