🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

160. -- باب: ترك الوضوء مما مست النار
-- باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ طَعِمَ خُبْزًا وَلَحْمًا، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْوُضُوءَ مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے روٹی اور گوشت کھایا تو ان سے کہا گیا: آپ وضو کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: وضو نکلنے والی چیز سے، داخل ہونے والی سے نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: وَقَفْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ إِذْ جَاءَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مِمَّا تَوَضَّأْتُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مِنْ ثَوْرٍ أَقِطٍ أَكَلْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا اور وہ وضو کر رہے تھے، اچانک ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آگئے۔ انہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا آپ جانتے ہیں میں نے وضو کیوں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں پروا نہیں کرتا تم نے کس لیے وضو کیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت کھاتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 1/361»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 733
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَا وُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ إِنَّمَا النَّارُ بَرَكَةٌ، وَالنَّارُ لَا تُحِلُّ مِنْ شَيْءٍ وَلَا تُحَرِّمُهُ".
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو نہیں ہے، آگ تو برکت والی ہے اور آگ کسی چیز کو نہ حلال کرتی ہے نہ حرام۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 653»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: مَا هَذَا يَا أَنَسُ أَعِرَاقِيَّةٌ؟، فَقَالَ: أَنَسٌ:" لَيْتَنِي لَمْ أَفْعَلْ" وَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَصَلَّيَا وَلَمْ يَتَوَضَّيَا".
عبدالرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عراق سے آئے تو ان کے پاس سیدنا ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما تشریف لائے۔ انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا جو آگ پر پکا تھا۔ انہوں نے اس سے کھایا، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو سیدنا ابوطلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اے انس! یہ کیا عراقیوں جیسا فعل ہے؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش! میں یہ نہ کرتا۔“ سیدنا ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے، نماز ادا کی لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 56»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ لَا يَتَوَضَّأُ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو نماز کے لیے وضو کرتا ہے، پھر ایسا کھانا کھاتا ہے جو آگ پر پکا ہو، کیا وہ وضو کرے گا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنے والد کو دیکھا، وہ وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 53»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ،" أَنَّهُمَا أَكَلَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَلَمْ يَتَوَضَّيَا".
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں