السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
203. -- باب: ما جاء في النهي عن ذلك
-- باب: اس (ممانعت کے کام) سے روکے جانے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 913
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا. وَهَذَا الْحَدِيثُ رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدًا لَمْ يُسَمِّ الصَّحَابِيَّ الَّذِي حَدَّثَهُ فَهُوَ بِمَعْنَى الْمُرْسَلِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ لَوْلَا مُخَالَفَتُهُ الْأَحَادِيثَ الثَّابِتَةَ الْمَوْصُولَةَ قَبْلَهُ، وَدَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى.
حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ میں ایک شخص سے ملا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چار سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر دن کنگھی کرنے، غسل خانے میں پیشاب کرنے، عورت کے مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے یا مرد کے عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھریں۔“
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، مگر حمید نے اس صحابی کا نام نہیں لیا جس نے انہیں یہ حدیث بیان کی، لہٰذا یہ مرسل کے معنی میں ہے، البتہ یہ عمدہ مرسل ہے اگر یہ اس سے پہلے گزری ہوئی ثابت اور متصل احادیث کے خلاف نہ ہوتی۔ اور داود بن عبداللہ اودی سے شیخین (امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ) نے حجت نہیں لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 913]
اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں، مگر حمید نے اس صحابی کا نام نہیں لیا جس نے انہیں یہ حدیث بیان کی، لہٰذا یہ مرسل کے معنی میں ہے، البتہ یہ عمدہ مرسل ہے اگر یہ اس سے پہلے گزری ہوئی ثابت اور متصل احادیث کے خلاف نہ ہوتی۔ اور داود بن عبداللہ اودی سے شیخین (امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ) نے حجت نہیں لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 38»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 914
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُتَوَضَّأَ مِنْ فَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ". قَالَ يُونُسُ: هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عاصم احول کہتے ہیں: میں نے ابو حاجب سے سنا جو کسی صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 82»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 915
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ". ⦗٢٩٦⦘ وَرَوَاهُ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ، هَكَذَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَوْ قَالَ:" بِسُؤْرِهَا". وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
(الف) سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو نہ کرے۔“ (ب) امام ابوداؤد طیالسی رحمہ اللہ سے روایت ہے، اس میں «أَنَّهُ قَالَ أَوْ قَالَ: بِسُؤْرِهَا» کے الفاظ ہیں، یعنی ”اس کے جھوٹے پانی سے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي 1252»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 916
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" نَهَى عَنْ سُؤْرِ الْمَرْأَةِ". وَكَانَ لَا يَدْرِي عَاصِمٌ فَضْلَ وَضُوئِهَا، أَوْ فَضْلَ شَرَابِهَا. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے جھوٹے سے منع فرمایا اور عاصم نہیں جانتے کہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی یا اس کے پینے سے بچے ہوئے پانی کے متعلق فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 4/213»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 917
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، نا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ".
سلیمان تیمی فرماتے ہیں: میں نے ابو حاجب سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 917]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَطَهَّرَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ". وَهَكَذَا رَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو حَاجِبٍ الْعَنَزِيُّ يُعَدُّ فِي الْبَصْرِيِّينَ، وَيُقَالُ: الْغِفَارِيُّ وَلَا أُرَاهُ يَصِحُّ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو. وَبَلَغَنِي، عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَيْسَ بِصَحِيحٍ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: أَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ، فَرَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، وَغَزَوَانُ بْنُ جُرَيْجٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْهُ مَوْقُوفًا مِنْ قَوْلِ الْحَكَمِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحاجب ایک صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ سے، جن کا تعلق بنی غفار قبیلے سے ہے، نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت حاصل نہ کرے۔“
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوحاجب سوادہ بن عاصم عنزی کا شمار بصریوں میں ہوتا ہے اور اسے غفاری بھی کہا جاتا ہے۔ میرے خیال کے مطابق اس کا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا صحیح نہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ابوحاجب کا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا صحیح نہیں۔
(ج) علی بن عمر الحافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوحاجب کا نام سواد بن عاصم ہے، اس بارے میں اختلاف ہے۔ عمران بن حدیر اور غزوان بن حجیر سدوسی اس سے موقوفاً روایت کرتے ہیں؛ حکم رضی اللہ عنہ کے قول سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر مرفوع منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 918]
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوحاجب سوادہ بن عاصم عنزی کا شمار بصریوں میں ہوتا ہے اور اسے غفاری بھی کہا جاتا ہے۔ میرے خیال کے مطابق اس کا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا صحیح نہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ابوحاجب کا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا صحیح نہیں۔
(ج) علی بن عمر الحافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوحاجب کا نام سواد بن عاصم ہے، اس بارے میں اختلاف ہے۔ عمران بن حدیر اور غزوان بن حجیر سدوسی اس سے موقوفاً روایت کرتے ہیں؛ حکم رضی اللہ عنہ کے قول سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر مرفوع منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 918]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 919
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا ابْنُ فَارِسٍ، ثنا ⦗٢٩٧⦘ مُحَمَّدٌ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، أنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ سَوَادَةَ الْعَنَزِيِّ، قَالَ: اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى الْحَكَمِ بِالْمِرْبَدِ، فَنَهَاهُمْ عَنْهُ.
سوادہ عنزی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگ مربد جگہ پر حکم رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہوئے تو انہوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 919]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 920
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، أنا مُطَيْنٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ". وَهَكَذَا رَوَاهُ مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ، وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ.
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنے“ سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: «شاذ»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 921
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ:" تَتَوَضَّأُ الْمَرْأَةُ وَتَغْتَسِلُ مِنْ فَضْلِ غُسْلِ الرَّجُلِ وَطَهُورِهِ، وَلَا يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ بِفَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ وَلَا طَهُورِهَا". قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مَوْقُوفٌ وَهُوَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ فِي هَذَا الْبَابِ الصَّحِيحُ هُوَ مَوْقُوفٌ، وَمَنْ رَفَعَهُ فَهُوَ خَطَأٌ.
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت وضو اور غسل، مرد کے وضو اور غسل سے بچے ہوئے پانی سے کر سکتی ہے اور مرد عورت کے غسل اور وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو نہیں کر سکتا۔
(ب) علی کہتے ہیں کہ اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ درست ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ مجھے ابوعیسیٰ ترمذی، امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث عبداللہ بن سرجس کے متعلق فرمایا: اس باب میں اس کا موقوف ہونا صحیح ہے۔ جس نے اس کو مرفوع بیان کیا اس نے غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 921]
(ب) علی کہتے ہیں کہ اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ درست ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ مجھے ابوعیسیٰ ترمذی، امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث عبداللہ بن سرجس کے متعلق فرمایا: اس باب میں اس کا موقوف ہونا صحیح ہے۔ جس نے اس کو مرفوع بیان کیا اس نے غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 921]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوف»
الحكم على الحديث: صحيح موقوف