🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

215. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في الجنب ينام ولا يمس ماء
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو جنبی کے پانی چھوئے بغیر سو جانے کے بارے میں وارد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (بعض اوقات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی نہیں چھوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله ’’ولا يمس مائ‘‘»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ ⦗٣١١⦘ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، وَكَانَ لِي جَارًا وَصَدِيقًا عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ قَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ" قَالَتْ:" وَثَبَ فَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ: قَامَ وَأَخَذَ الْمَاءَ وَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ: اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَاجَةٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ دُونَ قَوْلِهِ" قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً" وَذَلِكَ لِأَنَّ الْحُفَّاظَ طَعَنْوا فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَتَوَهَّمُوهَا مَأْخُوذَةً عَنْ غَيْرِ الْأَسْوَدِ، وَأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رُبَّمَا دَلَّسَ فَرَأَوْهَا مِنْ تَدْلِيسَاتِهِ وَاحْتَجُّوا عَلَى ذَلِكَ بِرِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بِخِلَافِ رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصے میں بیدار ہوجاتے، پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی کے ساتھ کوئی حاجت ہوتی تو اس کو پورا کرتے، پھر پانی چھونے سے پہلے سو جاتے، جب پہلی اذان ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً کھڑے ہوتے۔ اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور پانی لیا اور اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور میں جانتا ہوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کیا مراد تھی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حاجت نہ ہوتی تو نماز کی طرح وضو کرتے، پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔
حفاظِ حدیث نے «قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً» ”پانی چھونے سے پہلے“ کے الفاظ پر جرح کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ الفاظ اسود کے علاوہ کسی اور سے لیے گئے ہیں، اور ابو اسحاق بعض اوقات تدلیس کرتے تھے، تو انہوں نے اسے ان کی تدلیسات میں سے سمجھا، اور اس پر ابراہیم نخعی اور عبدالرحمن بن اسود کی اسود سے روایت سے دلیل لی ہے جو ابو اسحاق کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 976
أَمَّا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ، أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالت جنابت میں ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے یا کھانے کا ارادہ رکھتے تو وضو کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 5/3»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 977
وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَ وُضُوءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنَامُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ صَحِيحٌ مِنْ جِهَةِ الرِّوَايَةِ وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ بَيَّنَ سَمَاعَهُ مِنَ الْأَسْوَدِ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْهُ وَالْمُدَلِّسُ إِذَا بَيَّنَ سَمَاعَهُ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ وَكَانَ ثِقَةً فَلَا وَجْهَ لِرَدِّهِ وَوَجْهُ الْجَمْعِ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ عَلَى وَجْهٍ يُحْتَمَلُ وَقَدْ جَمَعَ بَيْنَهُمَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ شُرَيْحٍ فَأَحْسَنَ الْجَمْعَ وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأُسْتَاذُ قَدْ صَحَّ عِنْدَنَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، وَكَذَلِكَ صَحَّ حَدِيثُ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ" فَقَالَ لِي أَبُو الْوَلِيدِ: سَأَلْتُ أَبَا ⦗٣١٢⦘ الْعَبَّاسِ بْنَ شُرَيْحٍ عَنِ الْحَدِيثَيْنِ، فَقَالَ: الْحُكْمُ بِهِمَا جَمِيعًا، أَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ فَإِنَّمَا أَرَادَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَمَسُّ مَاءً لِلْغُسْلِ، وَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ فَمُفَسَّرٌ ذُكِرَ فِيهِ الْوُضُوءُ وَبِهِ نَأْخُذُ.
عبدالرحمن بن اسود کے والد کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسے تھا جب آپ حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر سو جاتے تھے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی حالتِ جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وضو کر کے سو سکتا ہے۔“
شیخ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ولید نے بیان کیا۔ میں نے ابوالعباس بن سریج سے ان دونوں حدیثوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: دونوں روایات کا ایک ہی حکم ہے۔ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں ان کی مراد یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ حدیثِ عمر رضی اللہ عنہ مفسر ہے جس میں وضو کا ذکر ہے، ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔
ابو اسحاق سبیعی کی حدیث روایت کے اعتبار سے صحیح ہے، کیونکہ ابو اسحاق نے زہیر بن معاویہ کی روایت میں اسود سے اپنے سماع کی صراحت کی ہے، اور مدلس جب اس شخص سے اپنے سماع کی صراحت کر دے جس سے وہ روایت کر رہا ہے اور وہ ثقہ ہو تو اس کی روایت کو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں