🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
215. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في الجنب ينام ولا يمس ماء
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو جنبی کے پانی چھوئے بغیر سو جانے کے بارے میں وارد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ ⦗٣١١⦘ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، وَكَانَ لِي جَارًا وَصَدِيقًا عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ قَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ" قَالَتْ:" وَثَبَ فَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ: قَامَ وَأَخَذَ الْمَاءَ وَلَا وَاللهِ مَا قَالَتْ: اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَاجَةٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ دُونَ قَوْلِهِ" قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً" وَذَلِكَ لِأَنَّ الْحُفَّاظَ طَعَنْوا فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَتَوَهَّمُوهَا مَأْخُوذَةً عَنْ غَيْرِ الْأَسْوَدِ، وَأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رُبَّمَا دَلَّسَ فَرَأَوْهَا مِنْ تَدْلِيسَاتِهِ وَاحْتَجُّوا عَلَى ذَلِكَ بِرِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بِخِلَافِ رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصے میں بیدار ہوجاتے، پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی کے ساتھ کوئی حاجت ہوتی تو اس کو پورا کرتے، پھر پانی چھونے سے پہلے سو جاتے، جب پہلی اذان ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً کھڑے ہوتے۔ اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور پانی لیا اور اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور میں جانتا ہوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کیا مراد تھی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حاجت نہ ہوتی تو نماز کی طرح وضو کرتے، پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔
حفاظِ حدیث نے «قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً» ”پانی چھونے سے پہلے“ کے الفاظ پر جرح کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ الفاظ اسود کے علاوہ کسی اور سے لیے گئے ہیں، اور ابو اسحاق بعض اوقات تدلیس کرتے تھے، تو انہوں نے اسے ان کی تدلیسات میں سے سمجھا، اور اس پر ابراہیم نخعی اور عبدالرحمن بن اسود کی اسود سے روایت سے دلیل لی ہے جو ابو اسحاق کی روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 975 in Urdu