السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
301. -- باب: الغسل من غسل الميت
-- باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ عَلَى مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا غُسْلٌ؟ فَقَالَ:" أَنْجَسْتُمْ صَاحِبَكُمْ، يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ".
عطاء سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: کیا اس شخص پر غسل ہے جو میت کو غسل دے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے اپنے ساتھی کو ناپاک قرار دے دیا ہے؟ اس سے وضو ہی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1460
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ، فَقَالَ:" أَنْجَاسٌ هُمْ فَتَغْتَسِلُونَ مِنْهُمْ يَعْنِي" الْغُسْلَ مَنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے میت کو غسل دینے کے بعد غسل کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: کیا وہ ناپاک ہے کہ تم اس سے غسل کرو؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1461
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ⦗٤٥٧⦘ مُعَلَّى، وَمَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي غُسْلِ مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوهُ إِنَّ مَيِّتَكُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاهِرٌ وَلَيْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُكُمْ أَنْ تَغْسِلُوا أَيْدِيكُمْ" وَرُوِيَ هَذَا مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”میت کو غسل دینے سے تم پر غسل واجب نہیں ہے، جب تم ان کو غسل دے چکو۔ تمہاری میت مومن پاک ہیں، ناپاک نہیں، تم کو کافی ہے کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔“
یہ روایت مرفوعاً بھی منقول ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1461]
یہ روایت مرفوعاً بھی منقول ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1461]
حدیث نمبر: 1462
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي غُسْلِ مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوهُ إِنَّهُ مُسْلِمٌ مُؤْمِنٌ طَاهِرٌ وَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُكُمْ أَنْ تَغْسِلُوا أَيْدِيكُمْ" هَذَا ضَعِيفٌ وَالْحَمْلُ فِيهِ عَلَى أَبِي شَيْبَةَ كَمَا أَظُنُّ، وَرَوى بَعْضَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو غسل دینے سے تم پر غسل واجب نہیں ہے، جب تم ان کو غسل دو، وہ مسلمان مؤمن پاک ہے اور مسلمان ناپاک نہیں ہوتا، تم کو کافی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔“
یہ روایت ضعیف ہے، اور میرے خیال میں اس کی ذمہ داری ابو شیبہ پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1462]
یہ روایت ضعیف ہے، اور میرے خیال میں اس کی ذمہ داری ابو شیبہ پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم 1؍543»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1463
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسَيَّبُ بْنُ زُهَيْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنَجِّسُوا مَوْتَاكُمْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِنَجَسٍ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا" وَهَكَذَا رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَرِيبٍ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَالْمَعْرُوفُ مَوْقُوفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کو ناپاک نہ کہو، بیشک مسلمان زندہ یا مُردہ ناپاک نہیں ہوتا۔“ (ب) ایک دوسری غریب سند سے ابن عیینہ سے منقول ہے اور اس کا موقوف ہونا معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم 1؍542»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1464
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُشْنَانِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَيُغْتَسَلُ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ؟ فَقَالَ:" مَا الْمَيِّتُ؟" فَقُلْتُ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مُؤْمِنًا قَالَ:" فَتَمَسَّحَ بِالْمُؤْمِنِ مَا اسْتَطَعْتَ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا میت کو غسل دینے سے غسل کیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: کیا میت ہے؟ میں نے کہا: میں امید کرتا ہوں کہ وہ مومن ہوگا۔ انہوں نے کہا: تو مومن کو چھو، جتنی طاقت رکھتا ہے (یعنی میت کو چھو سکتا ہے، غسل دے سکتا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، ثنا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ:" مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَصَابَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فَلْيَغْتَسِلْ وَإِلَّا فَلْيَتَوَضَّأْ".
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو میت کو غسل دے اور اگر اس کو کوئی چیز لگ جائے تو وہ غسل، اور ورنہ وضو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1466
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا وَهَيْبٌ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كُنَّا نُغَسِّلُ الْمَيِّتَ فَمِنَّا مَنْ يَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَا يَغْتَسِلُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم میت کو غسل دیتے تھے، ہم میں سے بعض غسل کر لیتے اور بعض نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الدارقطني 2؍72»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1467
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: وَقَالَ نَافِعٌ:" كُنَّا نُغَسِّلُ الْمَيِّتَ فَيَتَوَضَّأُ بَعْضُنَا وَيَغْتَسِلُ بَعْضٌ، ثُمَّ يَعُودُ فَنُكَفِّنُهُ، ثُمَّ نُحَنِّطُهُ وَنُصَلِّي عَلَيْهِ وَلَا نُعِيدُ الْوُضُوءَ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم میت کو غسل دیتے تھے، ہمارے بعض ساتھی وضو کرتے اور بعض غسل، پھر ہم واپس آتے اور اس کو کفن دیتے، پھر اس کو خوشبو لگاتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1468
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ حَنَّطَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ فِيمَنْ حَمَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو خوشبو لگائی اور اس کو اٹھانے والوں میں وہ بھی شامل تھے۔ پھر مسجد میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 6115»
الحكم على الحديث: صحيح