السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
425. -- باب: كراهية تأخير المغرب
-- باب: مغرب کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانُ النَّجَّادُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي هَارُونُ يَعْنِي ابْنَ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ أَنَّ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ حَدَّثَهُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوِا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت ہمیشہ فطرت (سلیمہ) پر ہی رہے گی، جب تک یہ مغرب کی نماز ستاروں کے نکلنے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 3/449»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2109
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ" وَقَدْ رَوِّينَا فِيمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ.
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت اس وقت تک فطرت (سلیمہ) پر قائم رہے گی جب تک مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے تک مؤخر نہیں کرے گی۔“
ہم نے پیچھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے والے بعض لوگوں نے اس (اگلی) روایت سے دلیل پکڑی ہے: [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2109]
ہم نے پیچھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے والے بعض لوگوں نے اس (اگلی) روایت سے دلیل پکڑی ہے: [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود 418»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2110
بِمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ السَّبَائِيُّ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا أُوفِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ" قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: سَأَلْتُ اللَّيْثَ عَنِ الشَّاهِدِ فَقَالَ: هُوَ النَّجْمُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ وَلَا يَجُوزُ تَرْكُ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ بِهَذَا وَإِنَّمَا الْمَقْصُودُ بِهَذَا نَفْيُ التَّطَوُّعِ بَعْدَهَا لَا بَيَانُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ.
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مخمص مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نماز (عصر) تم سے پہلے والی امتوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو ضائع کر دیا؛ لہٰذا جس نے اس کی محافظت کی اس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور اس کے بعد شاہد ستارہ طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں۔“
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2110]
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 292»
الحكم على الحديث: صحيح