السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
429. -- باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير
-- باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنا سُفْيَانُ عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا" يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عشا سے پہلے سونے کو اور عشا کے بعد گپ شپ کو ناپسند سمجھتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 516»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الطَّائِفِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" مَا نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَهَا وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا" يَعْنِي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے کبھی نہیں سوئے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد باتیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن ماجه 702»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2125
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ثنا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا لَاعِبًا بَعْدَهَا إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء سے پہلے کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی عشاء کے بعد کبھی کھیلتے دیکھا، یا تو آپ ذکر کرتے رہتے اور ثواب پاتے یا پھر آرام فرماتے اور سکون کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابو يعلي 4878»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" حَدَّثَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز کے بعد دنیاوی باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6678»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2127
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثنا سُفْيَانُ ⦗٦٦٤⦘ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ".
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشاء کی نماز کے بعد دنیاوی گفتگو جائز نہیں ہے، البتہ نماز پڑھنے والا اور مسافر ضرورت کی باتیں کر سکتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 379»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2128
وَأَخْبَرَنَا جَنَاحٌ ثنا ابْنُ دُحَيْمٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفَى سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ" رَوَاهُ حَمَّادٌ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَخْطَأَ فِيهِ وَقِيلَ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ خَطَأٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشا کی نماز کے بعد نمازی اور مسافر کے علاوہ کسی اور کے لیے باتیں کرنا مناسب نہیں۔“
اسے حماد نے شعیب سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2128]
اسے حماد نے شعیب سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّجُلِ ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَمَا زَالَ يُطْفَأُ وَيَسِيرُ الْغَضَبُ حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ وَاللهِ مَا أَعْلَمُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ يَسْمُرُ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ سَمَرَ عِنْدَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا نَمْشِي مَعَهُ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ فَلَمَّا أَعْيَانَا أَنْ نَعْرِفَ مَنِ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ" ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ:" سَلَ تُعْطَهْ" قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَقُلْتُ: لَأَغْدُوَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ فَبَشَّرَهُ فَوَاللهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرِ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ السَّمَرِ مِنْ عُمَرَ لَا مِنْ عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَةِ عَلْقَمَةَ.
علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عرفہ کے مقام پر ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں کوفہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہاں میں ایک ایسے آدمی سے ملا ہوں جو مصاحف کو زبانی املاء کرواتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے اور (غصے سے) پھول گئے حتیٰ کہ قریب تھا کہ اس آدمی کی دونوں جانبوں کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے۔ پھر کہنے لگے: تیرا ناس ہو، وہ ہے کون؟ اس نے کہا: عبداللہ بن مسعود۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر) بجھ سے گئے اور آپ کا غصہ ختم ہو گیا حتیٰ کہ اپنی پہلے والی حالت میں لوٹ آئے۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی باقی ہو جو اس کام کا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے زیادہ حق دار ہو، میں تجھے ان کے بارے میں بتاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہاں مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں رات گئے تک گفتگو کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں عشاء کے بعد باتیں کر رہے تھے اور اتفاقاً میں بھی وہاں موجود تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا نماز ادا کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قراءت سننے لگ گئے۔ پھر جب ہم نے غور کیا کہ ہم اس آدمی کو پہچان لیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تر و تازہ پڑھے جس طرح نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) کی قراءت کے موافق پڑھے۔“ پھر وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کہنے لگے: ”تو جو سوال کر، تجھے عطا کیا جائے گا۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں صبح ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر انہیں خوشخبری دوں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ صبح میں انہیں بشارت دینے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما مجھ سے سبقت لے گئے ہیں اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہما کو بشارت بھی دے دی۔ اللہ کی قسم! میں کبھی بھی کسی نیکی میں ابوبکر رضی اللہ عنہما سے پہل نہیں کر سکا مگر وہ ہمیشہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے نہ کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2129]
اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے نہ کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/25»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2130
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: جِئْتُكَ مِنْ عِنْدَ رَجُلٍ يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ إِنَّا سَمَرْنَا لَيْلَةً فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ مَا يَكُونُ مِنْ حَاجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَطَّارِ لِلْأَعْمَشِ: أَلَيْسَ قَالَ خَيْثَمَةُ أَنَّ اسْمَ الرَّجُلِ قَيْسُ بْنُ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ يُرِيدُ الرَّجُلَ الَّذِي جَاءَ إِلَى عُمَرَ ⦗٦٦٥⦘ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ عَلْقَمَةُ مِنْ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ.
حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو مصاحف کی زبانی املا کرواتا ہے، پھر طویل حدیث ذکر کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں تجھے عبداللہ کے بارے بتاتا ہوں۔ ایک رات ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کام کے سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے۔۔۔ پھر مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی۔
(ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ان کی مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے والا آدمی تھا۔
یہ حدیث علقمہ نے قیس کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی، بلکہ انہوں نے اسے قرثع سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2130]
(ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ان کی مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے والا آدمی تھا۔
یہ حدیث علقمہ نے قیس کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی، بلکہ انہوں نے اسے قرثع سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/25»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2131
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا عَفَّانُ ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ ثنا الْقَرْثَعُ عَنْ قَيْسٍ أَوِ ابْنِ قَيْسٍ رَجُلٍ مِنْ جُعْفَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ السَّمَرِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ (قرآن کی) تلاوت کر رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔۔۔ پھر مکمل قصہ ذکر کیا، مگر انہوں نے عشاء کے بعد باتیں کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْثَرَ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمِ:" عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا وَأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَمِهَا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ہم نے بہت باتیں کیں، پھر ہم گھروں کو لوٹے، صبح جب ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر تمام انبیاء اپنی امتوں سمیت پیش کیے گئے اور ان کے پیروکار بھی۔۔۔“ پھر لمبی حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 15/ 420»
الحكم على الحديث: صحيح