السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
429. -- باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير
-- باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2128
وَأَخْبَرَنَا جَنَاحٌ ثنا ابْنُ دُحَيْمٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفَى سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ" رَوَاهُ حَمَّادٌ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَخْطَأَ فِيهِ وَقِيلَ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ خَطَأٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشا کی نماز کے بعد نمازی اور مسافر کے علاوہ کسی اور کے لیے باتیں کرنا مناسب نہیں۔“
اسے حماد نے شعیب سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2128]
اسے حماد نے شعیب سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2128 in Urdu