🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

436. -- باب: من قال: هي الصبح
-- باب: جس نے کہا: ”یہ صبح (فجر) کی نماز ہے“ اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ثنا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَلِجِ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا" وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ، قَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ.
حضرت ابن عمارہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“ ان کے پاس بصرہ والوں میں سے ایک آدمی تھا، اس نے پوچھا: ”کیا واقعی تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں! میں نے سنی بھی ہے اور میں اس پر گواہی بھی پیش کرسکتا ہوں۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ یہ بات فرماتے ہوئے سنا جہاں تو نے سنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 634»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2188
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَرْبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ:" حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ" قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي قَالَ:" حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ" وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: صَلَاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ قَالَ الشَّيْخُ: رَحِمَهُ اللهُ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ حَافِظْ عَلَيْهِنَّ فِي أَوَائِلِ أَوْقَاتِهِنَّ فَاعْتَذَرَ بَالْأَشْغَالِ الْمُفْضِيَةِ إِلَى تَأْخِيرِهَا عَنْ أَوَائِلِ أَوْقَاتِهِنَّ فَأَمَرَهُ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ بِتَعْجِيلِهِمَا فِي أَوَائِلِ وَقْتَيْهِمَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) عبداللہ بن فضالہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی باتیں سکھائیں۔ ان میں یہ بھی تھا کہ ”پانچوں نمازوں پر محافظت کرو، (یعنی ان کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا کرو)۔“ میں نے عرض کیا: یہ تو میری مصروفیت کے اوقات ہیں، آپ مجھے کوئی جامع حکم دے دیں جس پر میں کاربند رہوں وہ مجھے کفایت کر جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْعَصْرَيْنِ» (عصرین) نمازوں کی حفاظت کر۔“ یہ لفظ (عصرین) ہماری لغت میں مستعمل نہیں تھا۔ میں نے پوچھا: عصرین سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے کی دو نمازیں۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ ان نمازوں کو ان کے اول وقت میں ادا کرنے پر محافظت کرو، لیکن جب اس نے اپنی مصروفیات کا عذر پیش کیا کہ میں مقررہ وقت پر نہ پڑھ سکوں گا تاخیر ہوجائے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دو نمازوں کے بارے میں خصوصی طور پر کہا کہ ان کو اول وقت میں ادا کرلیا کرو۔ واللہ اعلم وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 428»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں