السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
435. -- باب: من قال: هي صلاة العصر
-- باب: جس نے کہا: ”یہ عصر کی نماز ہے“ اس کا بیان
حدیث نمبر: 2158
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ عُقْبَةَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ:" نَزَلَتْ" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ" فَقَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنَّ نَقْرَأَهَا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ نَسَخَهَا فَأَنْزَلَ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؟ فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللهُ؟ وَاللهُ أَعْلَمُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ عَنِ الْفُضَيْلِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ فَقَالَ الْبَرَاءُ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى قَالَ مُسْلِمٌ: وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ يَعْنِي.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً عصر کی نماز پر۔“ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کی تلاوت کی پھر اللہ نے یہ منسوخ کر دی اور یہ نازل کی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز پر۔“ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا: کیا یہ عصر کی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ کیسے نازل ہوئی اور کیسے اللہ نے اس کو منسوخ کیا۔ واللہ اعلم
صحیح مسلم میں فضیل سے یہی روایت منقول ہے مگر اس میں یہ ہے کہ پھر اس آدمی نے کہا: تب یہ عصر کی نماز ہوگی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تمہیں بتایا نہیں کہ یہ کیسے نازل ہوئی اور کیسے اس کو اللہ نے منسوخ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2158]
صحیح مسلم میں فضیل سے یہی روایت منقول ہے مگر اس میں یہ ہے کہ پھر اس آدمی نے کہا: تب یہ عصر کی نماز ہوگی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تمہیں بتایا نہیں کہ یہ کیسے نازل ہوئی اور کیسے اس کو اللہ نے منسوخ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 630»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2159
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ثنا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ:" قَرَأْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْعَصْرِ) ثُمَّ قَرَأْنَاهَا بَعْدُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَا أَدْرِي أَهِيَ هِيَ أَمْ لَا".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدت تک اس طرح تلاوت کی «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ» ”نمازوں پر محافظت کرو اور خصوصاً عصر کی نماز پر“، پھر ہم نے اس کے منسوخ ہونے کے بعد اس طرح قراءت کی ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی“۔ میں نہیں جانتا کیا یہ وہی نماز ہے یا کوئی اور۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2159]
حدیث نمبر: 2160
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ثنا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ثنا عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ:" مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خندق کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (ان مشرکوں کے گھروں کو اور قبروں کو آگ سے بھر دے جنہوں نے ہمیں درمیانی نماز ادا کرنے نہیں دی، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، وہ عصر کی نماز تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2773»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الصَّنْعَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ بْنِ جُعْشُمٍ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ صَلَّيْنَا الْعَصْرَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةَ الْعَصْرِ مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
شتیر بن شکل عبسی سے روایت ہے کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ غزوہ احزاب کے دن ہم نے عصر کی نماز مغرب اور عشا کے درمیان پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ احمد 1/146»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2162
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ثنا سُفْيَانُ ثنا عَاصِمٌ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قِيلَ لِرَجُلٍ: سَلْ عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى فَسَأَلَهُ فَقَالَ: كُنَّا نَرَى أَنَّهَا صَلَاةُ الْفَجْرِ حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَقُولُ:" شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا".
زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سے کہا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے درمیانی نماز کے بارے میں پوچھو۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس کو فجر کی نماز خیال کیا کرتے تھے حتیٰ کہ میں نے غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ان مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کی نماز سے غافل کر دیا حتیٰ کہ سورج بھی غروب ہو گیا، اللہ ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضٰي في الذي قبله وهو حديث صحيح من و غيروجه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2163
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ:" شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةَ الْعَصْرِ مَلَأَ اللهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ خندق کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز، یعنی عصر سے غافل کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 628»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2164
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ثنا عَفَّانُ ثنا هَمَّامٌ ثنا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ".
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الترمذي 2983»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2165
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ" كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ خَالَفَهُ غَيْرُهُ فَرَوَاهُ عَنِ التَّيْمِيِّ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درمیانی نماز عصر کی نماز ہے۔“
اس سند سے یہ روایت اسی طرح (مرفوع) منقول ہے، دوسرے راویوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے تیمی سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2165]
اس سند سے یہ روایت اسی طرح (مرفوع) منقول ہے، دوسرے راویوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے تیمی سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن خزيمة 1338»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2166
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا.
ایک دوسری سند سے سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے اسی طرح کی موقوف روایت ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2167
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ التَّيْمِيِّ فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: لَيْسَ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ وَلَا بَاذَامُ هَذَا بَصْرِيُّ أُرَاهُ مِيزَانَ يَعْنِي اسْمُهُ مِيزَانُ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَصَحِّ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ وَقَوْلُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرُوِيَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُوَيْبٍ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ أَنَّهَا صَلَاةُ الْمَغْرِبِ.
(ا) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے تیمی رحمہ اللہ سے اسی حدیث کو موقوف روایت کیا ہے۔ عبداللہ (بن احمد) کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: یہ (ابوصالح) نہ ابوصالح سمان ہیں اور نہ باذام، یہ بصری ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ میزان ہیں، یعنی ان کا نام میزان ہے۔ شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: یہی (کہ درمیانی نماز عصر ہے) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ان سے مروی دو روایتوں میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق قول ہے، اور یہی سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص کا قول ہے، اور سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی دو روایتوں میں سے ایک روایت یہی ہے۔
(ب) قبیصہ بن ذویب تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ درمیانی نماز مغرب کی نماز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2167]
(ب) قبیصہ بن ذویب تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ درمیانی نماز مغرب کی نماز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ رواه مالك بلاغا»
الحكم على الحديث: ضعيف