🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

479. -- باب: الاستفتاح بسبحانك اللهم وبحمدك
-- باب: ”سبحانك اللهم وبحمدك“ کے ذریعے نماز کی ابتدا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2347
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلَاةِ جَمَاعَةٌ عَنْ بُدَيْلٍ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَائِشَةَ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے، اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے، اور ایک جماعت نے بدیل سے نماز کا واقعہ روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 776»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2348
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" وَهَذَا لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، پھر کہتے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔“
ہم نے اسے صرف حارثہ بن ابی الرجال کی حدیث سے لکھا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن خزيمة 470»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2349
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" قَالَ: ثُمَّ هَلَّلَ ثَلَاثًا" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا" اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ" قَالَ: جَعْفَرٌ: هَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ يَقُولُونَ: هُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ، الْوَهْمُ مِنْ جَعْفَرٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ فِي الِاسْتِفْتَاحِ بِسُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِيهِ الْأَثَرُ الْمَوْقُوفُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھتے: ” «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“”پھر تین بار یہ پڑھتے: ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔“”پھر تین بار تکبیر کہتے: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» (اللہ سب سے بڑا ہے)“ پھر ” «أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ» ”میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو سننے اور جاننے والا ہے اور اس کے وسوسے سے، تکبر کی ہوا اور جادو کی پھونکار سے۔“”جعفر کہتے ہیں: ہمزہ سے مراد دیوانگی، غشی ہے۔
اور نفثہ سے مراد اشعار وغیرہ ہیں اور نفخۃ سے مراد تکبر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ» “ سے نماز کی ابتدا کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی منقول ہے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث علی بن علی کی حسن (بصری) سے روایت ہے اور وہم جعفر کی طرف سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث قوی نہیں ہے، اور اس بارے میں سب سے صحیح روایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر موقوف اثر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن خزيمة 467»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2350
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
اسود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر کہتے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور تعریف تیرے لیے ہے، اور تیرا نام برکت والا ہے، اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے، اور تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم الكلام عليه قريبا»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں