السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
479. -- باب: الاستفتاح بسبحانك اللهم وبحمدك
-- باب: ”سبحانك اللهم وبحمدك“ کے ذریعے نماز کی ابتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2347
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلَاةِ جَمَاعَةٌ عَنْ بُدَيْلٍ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَائِشَةَ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے، اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے، اور ایک جماعت نے بدیل سے نماز کا واقعہ روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2347]
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے، اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے، اور ایک جماعت نے بدیل سے نماز کا واقعہ روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 776»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2347 in Urdu