السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
513. -- باب: القول في الركوع
-- باب: رکوع میں پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 2554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقُلْتُ يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى، فَقُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَآلَ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَيَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ" فَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ:" فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ وَتَعْظِيمٌ إِلَّا ذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة البقرة شروع کردی۔ میں نے (دل میں) سوچا شاید آپ (صرف) سو آیتیں پڑھیں گے، پھر رکوع فرمائیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید پڑھتے چلے گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ آپ سورة مکمل کرکے رکوع کریں گے لیکن آپ پڑھتے رہے، حتیٰ کہ آپ نے سورة النساء اور آل عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کے برابر (لمبا) رکوع کیا اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب جو عظمت والا ہے“ پڑھتے رہے۔ پھر اپنا سر اٹھایا تو فرمایا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے پروردگار اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح لمبا قومہ کیا۔ پھر سجدہ کیا تو سجدے میں بھی دیر تک «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو بہت بلند ہے“ پڑھتے رہے۔ کوئی بھی خوف یا تعظیم کی آیت پڑھتے تو اللہ کو یاد کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 772»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2555
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، عَنْ عَمِّهِ إِيَاسِ بْنِ عَامِرٍ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} [الواقعة: ٧٤] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ" فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] قَالَ لَنَا:" اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ".
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾ [سورة الواقعة: 74] ”پس اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو بہت بڑا ہے“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔“ پھر جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ”اپنے بلند وبالا رب کے نام کی تسبیح کرو“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”اسے اپنے سجدوں میں پڑھا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 869»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى أَوْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ بِمَعْنَاهُ، زَادَ فِيهِ قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ قَالَ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ" ثَلَاثًا، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ" ثَلَاثًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ نَخَافُ أَنْ لَا تَكُونَ مَحْفُوظَةً.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے میرا رب جو عظمت والا ہے اور تمام تعریفیں اس کے لیے ہیں۔“ تین بار پڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے میرا رب جو بلند تر ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں،“ تین بار پڑھتے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس زیادتی کے بارے میں ہمیں خوف ہے کہ شاید یہ محفوظ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2556]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس زیادتی کے بارے میں ہمیں خوف ہے کہ شاید یہ محفوظ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون قوله ’’وبحمده ثلاثا‘‘»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنِ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ:" رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا".
سعدی اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے غور سے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں اتنی دیر ٹھہرتے جتنی دیر میں «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے“ تین بار پڑھ لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه 885»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2558
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَوْنٍ رَفَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى يَعْنِي ثَلَاثًا، فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ" هَذَا مُرْسَلٌ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ.
سیدنا عون رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب جو عظمت والا ہے“ تین مرتبہ پڑھے، اس کا رکوع مکمل ہو جائے گا اور یہ ادنیٰ درجہ ہے۔ پھر جب سجدہ کرے تو «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو بلند ہے“ تین مرتبہ پڑھے، اس کا سجدہ مکمل ہو جائے گا اور یہ ادنیٰ درجہ ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، عون بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2558]
یہ روایت مرسل ہے، عون بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد 869»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوسَوِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللهُ تَعَالَى، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، أنبأ عُبَيْسُ بْنُ مَرْحُومٍ الْعَطَّارُ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ الْحَطَّابَةُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا نَزَالُ سَفَرًا أَبَدًا، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبِّحُوا ثَلَاثَ تَسْبِيحَاتٍ رُكُوعًا، وَثَلَاثَ تَسْبِيحَاتٍ سُجُودًا" وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ چند لکڑہارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں، ہم نماز کس طرح ادا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکوع اور سجدوں میں تین دفعہ تسبیحات پڑھو۔“
یہ روایت بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2559]
یہ روایت بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في مسند 1/ 47»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2560
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ الْقَاضِي، وَأَبُو نَصْرٍ مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے۔“ ایسا حکم قرآنی پر عمل کے لیے کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 817»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2561
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ خَلَّادٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا مَنْصُورٌ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ:" سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مَنْصُورٍ.
ایک اور سند سے یہ حدیث منقول ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے معاف کر دے۔“ ایسا حکمِ قرآنی پر عمل پیرا ہونے کے لیے فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ:" سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کہتے: ” «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» ”بہت پاک اور مقدس ہے فرشتوں اور روح الامین کا رب۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 487»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2563
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَإِذَا رَكَعَ قَالَ:" اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي" أَظُنُّهُ قَالَ:" وَمُخِّي وَعَصَبِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے۔۔۔ پھر پوری حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعَظْمِي» ”اے اللہ! میں تیرے ہی لیے جھکا، تجھی پر ایمان لایا اور تیرا ہی فرمان بردار بنا، تیرے ہی لیے جھک گئے میرے کان، میری آنکھیں اور میری ہڈیاں۔“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: «وَمُخِّي وَعَصَبِي» ”میرا دماغ اور میرے پٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 487»
الحكم على الحديث: صحيح