🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

535. -- باب: لا يكف ثوبا ولا شعرا ولا يصلي عاقصا شعرا
-- باب: نماز میں نہ کپڑے سمیٹے جائیں اور نہ بال، اور نہ ہی کوئی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا يَكُفَّ ثَوْبًا، وَلَا شَعْرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”سات ہڈیوں یعنی سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ کوئی اپنے کپڑوں اور بالوں کو دورانِ نماز نہ سمیٹے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2640»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2678
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَلَى سَبْعٍ وَأَنْ لَا يَكُفَّ ثَوْبًا وَلَا شَعْرًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.
ایک دوسری سند سے بھی اسی جیسی حدیث منقول ہے مگر اس میں «سَبْعَةِ أَعْظُمٍ» کی جگہ «عَلَى سَبْعٍ» کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ" وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنے سر کے بالوں کو پچھلی طرف اکٹھا کر کے باندھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور ان کے بالوں کو کھولنا شروع کر دیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا سروکار؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی «مَكْتُوفٌ» ”مشکیں بندھے ہوئے“ نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 492»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ⦗١٥٧⦘ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحَسَنٌ يُصَلِّي قَائِمًا قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَيْهِ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهُمَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ يَقُولُ: مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرِزَ ضَفْرَتَيْهِ" لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ:" هِيَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ" وَرُوِّينَا فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
(ا) سعید بن ابوسعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرتے دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور آپ نے زلفوں کی مینڈھیاں بنا کر گردن کے پیچھے ڈال رکھی تھیں۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے وہ مینڈھیاں کھول دیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں ان کی طرف مڑے تو ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نماز جاری رکھو اور غصہ نہ کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”یہ بالوں کی مینڈھیاں شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہیں“ یعنی مینڈھیوں کا جوڑا بنانا منع ہے۔
(ب) عبدالرزاق کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے“۔
(ج) جوڑے کی کراہت کے بارے میں سیدنا عمر، علی، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی روایات گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 2991»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں