السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
535. -- باب: لا يكف ثوبا ولا شعرا ولا يصلي عاقصا شعرا
-- باب: نماز میں نہ کپڑے سمیٹے جائیں اور نہ بال، اور نہ ہی کوئی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2679
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ" وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنے سر کے بالوں کو پچھلی طرف اکٹھا کر کے باندھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور ان کے بالوں کو کھولنا شروع کر دیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا سروکار؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی «مَكْتُوفٌ» ”مشکیں بندھے ہوئے“ نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 492»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2679 in Urdu