🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

546. -- باب: ما جاء في ضم العقبين في السجود
-- باب: سجدے میں دونوں ایڑیوں کو ملانے کے حوالے سے وارد شدہ احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرْسُوسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ⦗١٦٨⦘ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ مُسْتَقْبِلًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ" فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِيَ عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ" فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَخْذَكِ شَيْطَانُكِ؟" فَقُلْتُ: أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ؟ فَقَالَ:" مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا لَهُ شَيْطَانٌ" فَقُلْتُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا، لَكِنِّي دَعَوْتُ اللهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میرے بستر پر تھے، رات کو میں نے آپ کو گم پایا۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں۔ آپ کی ایڑیاں مضبوطی سے ملی ہوئی تھیں اور انگلیوں کے کنارے آپ نے قبلہ رخ کر رکھے تھے۔ میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِي عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ» ”میں تیری رضا کے ذریعے تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری معافی کے ذریعے تیرے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری ثنا کرتا ہوں، میں تیری تمام خوبیوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔“ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: ”اے عائشہ! تجھے تیرے شیطان نے پکڑ لیا ہے۔“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے ساتھ بھی تھا، لیکن میں نے اللہ سے اس کے بارے میں دعا کی تو اللہ نے اسے میرا مطیع کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه غير واحد عن عائشه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں