السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
547. -- باب: يعتمد بمرفقيه على ركبتيه إذا طال السجود
-- باب: جب سجدہ طویل ہو جائے تو اپنی کہنیوں کا اپنی رانوں (یا گھٹنوں) پر سہارا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 2720
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا، فَقَالَ:" اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ" زَادَ شُعَيْبٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا طَالَ السُّجُودُ وَأَعْيَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ جب وہ بازو کھول کر سجدہ کرتے ہیں تو انہیں مشقت ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھٹنوں کا سہارا لے لیا کرو۔“ شعیب نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ابن عجلان رحمہ اللہ کہتے ہیں: «اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی کہنیوں کو اپنے گھٹنوں پر ٹیک دے جب وہ لمبا سجدہ کرے اور تھک جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2720]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الترمذي 286»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2721
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِاعْتِمَادَ وَالْإِدِّعَامَ فِي الصَّلَاةِ، فَرَخَّصَ لَهُمْ أَنْ يَسْتَعِينَ الرَّجُلُ بِمِرْفَقَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، أَوْ فَخِذَيْهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُمَيٍّ ٢٦ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا قَالَ: الْبُخَارِيُّ وَهَذَا أَصَحُّ بِإِرْسَالِهِ.
(ا) نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ٹیک لگانے اور سہارا لینے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت دے دی کہ ”آدمی اپنی کہنیوں کے ساتھ اپنے گھٹنوں اور رانوں پر سہارا لے لے۔“
(ب) اسی طرح سفیان ثوری رحمہ اللہ، سمی رحمہ اللہ سے اور وہ نعمان رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شکایت کی۔۔۔ انہوں نے یہ حدیث مرسل ذکر کی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2721]
(ب) اسی طرح سفیان ثوری رحمہ اللہ، سمی رحمہ اللہ سے اور وہ نعمان رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شکایت کی۔۔۔ انہوں نے یہ حدیث مرسل ذکر کی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2721]
تخریج الحدیث: «ضعيف لانه مرسل»
الحكم على الحديث: ضعيف لانه مرسل