🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

570. -- باب: ما ينوي المشير بإشارته في التشهد
-- باب: تشہد میں اشارہ کرنے والا اپنے اشارے سے کیا نیت کرے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2792
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ ⦗١٩١⦘ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ، فَرَآنِي أُشِيرُ بِأُصْبُعِي فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي، لِمَ تَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ خِيَارَ النَّاسِ وَفُقَهَاءَهُمْ يَفْعَلُونَهُ" قَالَ: قَدْ أَصَبْتَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ، إِذَا جَلَسَ يَتَشَهَّدُ فِي صَلَاتِهِ" وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ:" إِنَّمَا يَسْحَرُنَا، وَإِنَّمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّوْحِيدَ".
ابوالقاسم مقسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اہل مدینہ میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے خفاف بن ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ کے پاس نماز ادا کی۔ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! اس طرح کیوں کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں نے صلحاء اور فقہاء کو اس طرح کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا: تم صحیح کہتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب نماز میں تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔ مشرکین کہتے: یہ تو ہم پر جادو کر رہا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے توحید مراد لے رہے ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2792]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2793
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ قَالَ: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ حَامِدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ فَذَكَرَ جُلُوسَهُ قَالَ:" وَوَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِي الْيُسْرَى، وَوَضَعْتُ يَدِي الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِي الْيُمْنَى، وَنَصَبْتُ أُصْبُعِي السَّبَابَةَ قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي قَالَ لِي: لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعِكَ هَكَذَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ قَالَ: فَإِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا صَلَّى يَصْنَعُ ذَلِكَ" وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ:" إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِأُصْبُعِهِ لِيَسْحَرَ، وَكَذَبُوا" إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ؛ لِمَا يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
عبداللہ بن حارث بن نوفل کے غلام ابوالقاسم مقسم فرماتے ہیں کہ مجھے اہل مدینہ کے ایک آدمی نے حدیث بیان کی کہ میں نے بنی غفار کی مسجد میں نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے اپنے قعدے کا ذکر کیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھا اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اور اپنی شہادت والی انگلی کو کھڑا کر لیا۔ مجھے خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ جب میں نے اپنی نماز سے سلام پھیرا تو انہوں نے مجھے کہا: تم نے اپنی انگلی اس طرح کیوں کھڑی کی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: تم درست کہتے ہو۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اس طرح کرتے تھے اور مشرک لوگ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی اس طرح اس لیے کرتا ہے تاکہ جادو کرے، وہ جھوٹ بولتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح اس لیے کرتے تھے تاکہ اس کے ساتھ اپنے رب کی توحید بیان کریں جو بابرکت اور بلند وبالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2793]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2794
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّجُلِ يَدْعُو يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" هُوَ الْإِخْلَاصُ".
عیزار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو دعا کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایسا کرنا اخلاص ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2795
وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ فِي الْجَامِعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ وَهُوَ أَرْبَدَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" هُوَ الْإِخْلَاصُ" وَعَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: ذَلِكَ التَّضَرُّعُ، وَعَنْ عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: مُقْمِعَةٌ لِلشَّيْطَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو النَّصْرِ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُنَّ.
(ا) ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایسا کرنا اخلاص ہے۔
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایسا کرنا عاجزی ہے۔
(ج) عثمان، مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2795]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2796
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ⦗١٩٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَكَذَا الْإِخْلَاصُ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ" وَهَذَا الدُّعَاءُ" فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ" وَهَذَا الِابْتِهَالُ" فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کرنا اخلاص ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے، ”اور یہ دعا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا، ”اور یہ ابتہال (گڑگڑا کر دعا کرنا) ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو خوب بلند کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم 8017»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں