🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
570. -- باب: ما ينوي المشير بإشارته في التشهد
-- باب: تشہد میں اشارہ کرنے والا اپنے اشارے سے کیا نیت کرے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2793
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ قَالَ: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ حَامِدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ فَذَكَرَ جُلُوسَهُ قَالَ:" وَوَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِي الْيُسْرَى، وَوَضَعْتُ يَدِي الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِي الْيُمْنَى، وَنَصَبْتُ أُصْبُعِي السَّبَابَةَ قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي قَالَ لِي: لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعِكَ هَكَذَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ قَالَ: فَإِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا صَلَّى يَصْنَعُ ذَلِكَ" وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ:" إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِأُصْبُعِهِ لِيَسْحَرَ، وَكَذَبُوا" إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ؛ لِمَا يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
عبداللہ بن حارث بن نوفل کے غلام ابوالقاسم مقسم فرماتے ہیں کہ مجھے اہل مدینہ کے ایک آدمی نے حدیث بیان کی کہ میں نے بنی غفار کی مسجد میں نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے اپنے قعدے کا ذکر کیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھا اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اور اپنی شہادت والی انگلی کو کھڑا کر لیا۔ مجھے خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ جب میں نے اپنی نماز سے سلام پھیرا تو انہوں نے مجھے کہا: تم نے اپنی انگلی اس طرح کیوں کھڑی کی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: تم درست کہتے ہو۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اس طرح کرتے تھے اور مشرک لوگ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی اس طرح اس لیے کرتا ہے تاکہ جادو کرے، وہ جھوٹ بولتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح اس لیے کرتے تھے تاکہ اس کے ساتھ اپنے رب کی توحید بیان کریں جو بابرکت اور بلند وبالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2793]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2793 in Urdu