السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
589. -- باب: الدليل على أن أزواجه صلى الله عليه وسلم من أهل بيته في الصلاة عليهن
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات پر درود بھیجنے کے حوالے سے وہ آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں
حدیث نمبر: Q2861
وَذَلِكَ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى خَاطَبَهُنَّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ} [الأحزاب: 32] ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] وَإِنَّمَا قَالَ: عَنْكُمْ بِلَفْظِ الذُّكُورِ؛ لِأَنَّهُ أَرَادَ دُخُولَ غَيْرِهِنَّ مَعَهُنَّ فِي ذَلِكَ، ثُمَّ أَضَافَ الْبُيُوتَ إِلَيْهِنَّ، فَقَالَ: {وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ} [الأحزاب: 34] .
اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان (ازواج مطہرات) سے اپنے اس فرمان کے ذریعے خطاب فرمایا: ﴿يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ﴾ ”اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو، اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ برتو۔“ [سورة الأحزاب: 32]
پھر کلام کو آگے بڑھایا یہاں تک کہ فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ ”اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔“ [سورة الأحزاب: 33]
اور اللہ تعالیٰ نے لفظ «عَنْكُمْ» (تم سے) مذکر کے صیغے کے ساتھ اس لیے ارشاد فرمایا کیونکہ اس سے مقصود ان (ازواج مطہرات) کے ساتھ دیگر افراد (اہل بیت) کو بھی اس حکم میں شامل کرنا تھا، پھر گھروں کی اضافت (نسبت) ان کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ ”اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیات اور حکمت کی باتیں تلاوت کی جاتی ہیں، انہیں یاد رکھو۔“ [سورة الأحزاب: 34] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q2861]
پھر کلام کو آگے بڑھایا یہاں تک کہ فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ ”اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔“ [سورة الأحزاب: 33]
اور اللہ تعالیٰ نے لفظ «عَنْكُمْ» (تم سے) مذکر کے صیغے کے ساتھ اس لیے ارشاد فرمایا کیونکہ اس سے مقصود ان (ازواج مطہرات) کے ساتھ دیگر افراد (اہل بیت) کو بھی اس حکم میں شامل کرنا تھا، پھر گھروں کی اضافت (نسبت) ان کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ ”اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیات اور حکمت کی باتیں تلاوت کی جاتی ہیں، انہیں یاد رکھو۔“ [سورة الأحزاب: 34] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q2861]
حدیث نمبر: 2861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: فِي بَيْتِي أُنْزِلَتْ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ، وَعَلِيٍّ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، فَقَالَ:" هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي" وَفِي حَدِيثِ الْقَاضِي وَالسُّلَمِيِّ:" هَؤُلَاءِ أَهْلِي" قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمَا أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ:" بَلَى إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ ثِقَاتٌ رُوَاتُهُ. قَالَ الشَّيْخُ:" وَقَدْ رُوِيَ فِي شَوَاهِدِهِ، ثُمَّ فِي مُعَارَضَتِهِ أَحَادِيثُ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهَا، وَفِي كِتَابِ اللهِ الْبَيَانُ لِمَا قَصَدْنَاهُ فِي إِطْلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآلَ، وَمُرَادُهُ مِنْ ذَلِكَ أَزْوَاجُهُ أَوْ هُنَّ دَاخِلَاتٌ فِيهِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی، یعنی ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے نجاست کو دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
(ب) قاضی اور سلمی کی حدیث میں ہے: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ”یہ میرے گھر والے ہیں۔“ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ان شاء اللہ تم بھی شامل ہو۔“
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے شواہد اور معارض بھی ہیں ان کی مثل ثابت نہیں۔ اللہ کی کتاب میں وضاحت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کو مطلق ذکر کرنے اور اس سے اپنی بیویاں مراد لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی آل میں داخل ہیں۔
امام ابوعبداللہ (حاکم) رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2861]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
(ب) قاضی اور سلمی کی حدیث میں ہے: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ”یہ میرے گھر والے ہیں۔“ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ان شاء اللہ تم بھی شامل ہو۔“
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے شواہد اور معارض بھی ہیں ان کی مثل ثابت نہیں۔ اللہ کی کتاب میں وضاحت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کو مطلق ذکر کرنے اور اس سے اپنی بیویاں مراد لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی آل میں داخل ہیں۔
امام ابوعبداللہ (حاکم) رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2862
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ عَفَّانَ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" ⦗٢١٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُمَارَةَ وَرُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ إِنَّمَا أَرَادَ مَنْ فِي نَفَقَتِهِ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ" وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ"، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنَّا كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ" وَأَشَارَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَلِيمِيُّ إِلَى أَنَّ اسْمَ أَهْلِ الْبَيْتِ لِلْأَزْوَاجِ تَحْقِيقٌ، وَاسْمُ الْآلِ لَهُنَّ تَشْبِيهٌ بِالنَّسَبِ وَخُصُوصًا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّ اتِّصَالَهُنَّ بِهِ غَيْرُ مُرْتَفِعٍ، وَهُنَّ مُحَرَّمَاتٌ عَلَى غَيْرِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ، فَالسَّبَبُ الَّذِي لَهُنَّ بِهِ قَائِمٌ مَقَامَ النَّسَبِ قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي نَصِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَمْرِ بِالصَّلَاةِ عَلَى أَزْوَاجِهِ يُغْنِيهِ عَنْ غَيْرِهِ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! آلِ محمد کے رزق کو بقدرِ کفایت بنا دے۔“
(ب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آلِ محمد صرف اس مال میں سے کھاتے ہیں، ان کے لیے اس کھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد وہ لوگ تھے جو آپ کی کفالت میں تھے۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گئے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ آئے، انہوں نے کبھی بھی تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔
(ہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے، پورا پورا مہینہ ہمارے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا، ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
(ن) ابوعبداللہ حلیمی رحمہ اللہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل بیت کا لفظ بیویوں کے لیے ثابت ہے اور آل کا لفظ ان کے لیے بولنا نسبت کے ساتھ تشبیہ کے طور پر ہے اور خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے کیونکہ ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے اور وہ (ازواج مطہرات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں، اس وجہ سے ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت قائم ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج پر صلوٰۃ کے حکم کی صراحت کرنا کسی اور دلیل سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2862]
(ب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آلِ محمد صرف اس مال میں سے کھاتے ہیں، ان کے لیے اس کھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد وہ لوگ تھے جو آپ کی کفالت میں تھے۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گئے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ آئے، انہوں نے کبھی بھی تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔
(ہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے، پورا پورا مہینہ ہمارے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا، ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
(ن) ابوعبداللہ حلیمی رحمہ اللہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل بیت کا لفظ بیویوں کے لیے ثابت ہے اور آل کا لفظ ان کے لیے بولنا نسبت کے ساتھ تشبیہ کے طور پر ہے اور خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے کیونکہ ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے اور وہ (ازواج مطہرات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں، اس وجہ سے ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت قائم ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج پر صلوٰۃ کے حکم کی صراحت کرنا کسی اور دلیل سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 646»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2863
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت بھیج اور آپ کی ازواج مطہرات پر اور آپ کی اولاد پر جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت بھیجی اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی ازواج پر اور آپ کی اولاد پر۔ جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ بیشک تو تعریف والا بزرگی والا ہے“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 3369»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أنبأ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
ایک دوسری سند سے اسی کی مثل حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2865
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ هُوَ الشَّافِعِيُّ قَالَا: ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ، ⦗٢١٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ.
مذکورہ حدیث کے معنی میں ایک روایت دوسری سند سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم بنحوه في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ أَزْوَاجَهُ وَذُرِّيَّتَهُ بِالذِّكْرِ عَلَى وَجْهِ التَّأْكِيدِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى التَّعْمِيمِ؛ لِيُدْخِلَ فِيهَا غَيْرَ الْأَزْوَاجِ وَالذُّرِّيَّةِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اسے اس کے اعمال کا پورا پورا وزن کر کے بدلہ دیا جائے تو وہ جب ہم اہل بیت پر درود بھیجے تو کہے: «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نبی ہیں اور آپ کی ازواج پر جو امہات المومنین ہیں اور آپ کی اولاد اور آپ کے اہل بیت پر رحمت بھیج جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجی، یقیناً تو تعریف والا بزرگی والا ہے۔““
گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج اور اپنی اولاد کو علی وجہ التاکید علیحدہ ذکر کیا ہے، پھر عام کا لفظ بولا ہے تاکہ اس میں ازواج اور اولاد کے علاوہ اہل بیت کو بھی داخل کردیں اور ان تمام پر رحمت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2866]
گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج اور اپنی اولاد کو علی وجہ التاکید علیحدہ ذکر کیا ہے، پھر عام کا لفظ بولا ہے تاکہ اس میں ازواج اور اولاد کے علاوہ اہل بیت کو بھی داخل کردیں اور ان تمام پر رحمت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف