🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
589. -- باب: الدليل على أن أزواجه صلى الله عليه وسلم من أهل بيته في الصلاة عليهن
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات پر درود بھیجنے کے حوالے سے وہ آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2862
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ عَفَّانَ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" ⦗٢١٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُمَارَةَ وَرُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ إِنَّمَا أَرَادَ مَنْ فِي نَفَقَتِهِ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ" وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ"، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنَّا كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ" وَأَشَارَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَلِيمِيُّ إِلَى أَنَّ اسْمَ أَهْلِ الْبَيْتِ لِلْأَزْوَاجِ تَحْقِيقٌ، وَاسْمُ الْآلِ لَهُنَّ تَشْبِيهٌ بِالنَّسَبِ وَخُصُوصًا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّ اتِّصَالَهُنَّ بِهِ غَيْرُ مُرْتَفِعٍ، وَهُنَّ مُحَرَّمَاتٌ عَلَى غَيْرِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ، فَالسَّبَبُ الَّذِي لَهُنَّ بِهِ قَائِمٌ مَقَامَ النَّسَبِ قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي نَصِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَمْرِ بِالصَّلَاةِ عَلَى أَزْوَاجِهِ يُغْنِيهِ عَنْ غَيْرِهِ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! آلِ محمد کے رزق کو بقدرِ کفایت بنا دے۔“
(ب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آلِ محمد صرف اس مال میں سے کھاتے ہیں، ان کے لیے اس کھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد وہ لوگ تھے جو آپ کی کفالت میں تھے۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گئے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ آئے، انہوں نے کبھی بھی تین دن گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔
(ہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے، پورا پورا مہینہ ہمارے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا، ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
(ن) ابوعبداللہ حلیمی رحمہ اللہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اہل بیت کا لفظ بیویوں کے لیے ثابت ہے اور آل کا لفظ ان کے لیے بولنا نسبت کے ساتھ تشبیہ کے طور پر ہے اور خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے کیونکہ ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے اور وہ (ازواج مطہرات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں، اس وجہ سے ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت قائم ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج پر صلوٰۃ کے حکم کی صراحت کرنا کسی اور دلیل سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 646»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2862 in Urdu