🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

595. -- باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة
-- باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَرَأَ نَاسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ حَفِظَ الْأَوْزَاعِيُّ كَوْنَ هَذَا الْكَلَامِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ فَفَصَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ إِسْنَادَهُ، الصَّوَابُ مَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ وَرَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمِّهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں قراءت کی جس میں جہری قراءت کی جاتی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی کہتا ہوں کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل کیوں ہو رہا ہے!“ زہری کہتے ہیں: مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قراءت نہیں کرتے تھے۔
اوزاعی نے یہ بات یاد رکھی کہ یہ کلام زہری کا قول ہے اور اسے حدیث سے الگ کر دیا، لیکن انہوں نے اس کی سند یاد نہیں رکھی، درست وہ ہے جو ابن عیینہ نے زہری سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اکیمہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے سنا، اور یونس بن یزید ایلی نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كما في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا فِي الصَّلَاةِ؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ قَالَ ذَلِكَ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَا ارْتِيَابَ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَالزُّبَيْدِيُّ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الشَّيْخُ: فِي صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرٌ؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ رِوَايَةَ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ يُحَدِّثْ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحْدَهُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَ الزُّهْرِيِّ مِنْ مَعْرِفَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ رَآهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أُكَيْمَةَ: هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ ⦗٢٢٧⦘ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُهُ قَطُّ قَالَ الشَّيْخُ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ" فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ. وَأَبُو هُرَيْرَةَ رَاوِي الْحَدِيثَيْنِ دَلِيلٌ عَلَى ضِعْفِ رِوَايَةِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، أَوْ أَرَادَ بِمَا فِي حَدِيثِ ابْنِ أُكَيْمَةَ الْمَنْعَ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ أَوِ الْمَنْعَ عَنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ مِثْلُ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الْوَارِدِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ ساتھ قراءت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے!“
(ب) تب لوگ قراءت سے رک گئے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے۔“ (ابوسائب کہتے ہیں:) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! جب میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو کیا کروں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(د) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دو حدیثوں کا منقول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اکیمہ والی روایت ضعیف ہے۔
یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں: یہ بلا شک و شبہ غلطی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی صحت محل نظر ہے، کیونکہ یہ ابن اکیمہ لیثی کی روایت ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس نے صرف یہی ایک حدیث بیان کی ہے، اس سے زہری کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، اور زہری بھی اس کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے اسے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے دیکھا۔ حمیدی نے ابن اکیمہ کی حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث ایک مجہول آدمی نے روایت کی ہے جس سے اس کے سوا کسی نے کبھی روایت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال البزار 6/ 293، 2313»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں