السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
595. -- باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة
-- باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2894
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَرَأَ نَاسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ حَفِظَ الْأَوْزَاعِيُّ كَوْنَ هَذَا الْكَلَامِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ فَفَصَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ إِسْنَادَهُ، الصَّوَابُ مَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ وَرَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمِّهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں قراءت کی جس میں جہری قراءت کی جاتی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی کہتا ہوں کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل کیوں ہو رہا ہے!“ زہری کہتے ہیں: مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قراءت نہیں کرتے تھے۔
اوزاعی نے یہ بات یاد رکھی کہ یہ کلام زہری کا قول ہے اور اسے حدیث سے الگ کر دیا، لیکن انہوں نے اس کی سند یاد نہیں رکھی، درست وہ ہے جو ابن عیینہ نے زہری سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اکیمہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے سنا، اور یونس بن یزید ایلی نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2894]
اوزاعی نے یہ بات یاد رکھی کہ یہ کلام زہری کا قول ہے اور اسے حدیث سے الگ کر دیا، لیکن انہوں نے اس کی سند یاد نہیں رکھی، درست وہ ہے جو ابن عیینہ نے زہری سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اکیمہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے سنا، اور یونس بن یزید ایلی نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كما في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2894 in Urdu