السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
597. -- باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2913
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 756»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنَا إِمْلَاءً قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ" ⦗٢٣٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2914]
حدیث نمبر: 2915
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ؟" قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَفْعَلُ هَذَا قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" لَفْظُ حَدِيثِ التَّنُوخِيِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ ابْنِ إِسْحَاقَ مِنْ مَكْحُولٍ.
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قراءت مشکل ہوگئی۔ جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! ہم تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اسے نہیں پڑھتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون وله (لا صلوة الابأم القرآن) (فانها من قول عباده) اخرجه احمده 316»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2916
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ: وَقَالَ:" إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ؟" قُلْنَا: أَجَلْ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ مجھے مکحول نے یہ حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو جب وہ جہری قراءت کر رہا ہوتا ہے۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا ہی ہے (ہم پڑھتے ہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو، سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو کیونکہ جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2916]
علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم التفصيل في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2917
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٢٣٥⦘ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، فَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ، حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟" فَقَالَ: بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ:" فَلَا وَأَنَا أَقُولُ: مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ".
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز سے تاخیر ہوگئی تو ابو نعیم موذن (جس نے سب سے پہلے بیت المقدس میں اذان دی) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اتنے میں عبادہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے ابو نعیم کے پیچھے نیت باندھ لی۔ ابو نعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورہ فاتحہ (آہستہ آواز میں) پڑھنی شروع کردی۔ جب وہ نماز پڑھ چکے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ ابو نعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہری نماز پڑھائی تو آپ پر قراءت مشکل ہوگئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو رخِ انور ہماری طرف کر کے گویا ہوئے: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کرتا ہوں تو شاید تم بھی قراءت کرتے ہو؟“ ہم میں سے بعض نے کہا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، میں تبھی تو سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن سے کچھ نہ پڑھا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله فانه لا صلواة الا بام القرآن وقد تقدم التفصيل في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2918]
حدیث نمبر: 2919
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَغَيْرِهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودٍ أَبِي نُعَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ مَعِي؟" قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زَرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ، مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ فَذَكَرَهُ وَهَذَا خَطَأٌ إِنَّمَا الْمُؤَذِّنُ وَالْإِمَامُ كَانَ أَبَا نُعَيْمٍ وَالْحَدِيثُ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ، وَعَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عُبَادَةَ، فَكَأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، أَظُنُّهُ قَالَ خَطَأً، إِنَّمَا كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنَ وَلَيْسَ هُوَ كَمَا قَالَ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا حَرَامُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ.
ابو نعیم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نماز میں میرے ساتھ پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو۔“
ابوبکر بن حارث فقیہ نے ہمیں خبر دی کہ مجھے علی بن عمر حافظ نے بتایا کہ ابن صاعد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ خطا ہے۔ ابو نعیم تو صرف مؤذن تھا اس طرح نہیں تھا جس طرح ولید نے کہا ہے۔
یہ غلطی ہے، مؤذن اور امام ابونعیم ہی تھے، اور یہ حدیث مکحول عن محمود بن ربیع عن عبادہ کی سند سے اور مکحول عن نافع بن محمود عن عبادہ کی سند سے ہے، گویا مکحول نے اسے ان دونوں سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2919]
ابوبکر بن حارث فقیہ نے ہمیں خبر دی کہ مجھے علی بن عمر حافظ نے بتایا کہ ابن صاعد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ خطا ہے۔ ابو نعیم تو صرف مؤذن تھا اس طرح نہیں تھا جس طرح ولید نے کہا ہے۔
یہ غلطی ہے، مؤذن اور امام ابونعیم ہی تھے، اور یہ حدیث مکحول عن محمود بن ربیع عن عبادہ کی سند سے اور مکحول عن نافع بن محمود عن عبادہ کی سند سے ہے، گویا مکحول نے اسے ان دونوں سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2920
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، وَأَبُو زَرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا صَدَّقَةُ بْنُ خَالِدٍ ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ كَذَا قَالَ: إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ الْقِرَاءَةَ؟" قُلْنَا: ⦗٢٣٦⦘ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ".
نافع بن محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا اور ابو نعیم (دوران جماعت بطور امام) اونچی قراءت کر رہے تھے۔ نافع کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں نے آپ کو نماز میں کچھ پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ کو ام القرآن پڑھتے سنا ہے، حالانکہ ابو نعیم اونچی قراءت کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں (ایسا ہے ہی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہری نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کرتا ہوں تو شاید تم میں سے کوئی قراءت کرتا ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تبھی تو سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوں تو سورۃ فاتحہ کے سوا قرآن میں سے کچھ نہ پڑھا کرو۔“
ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2920]
ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد تقدم تفصيل ذالك»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2921
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ: وَكَانَ عَلَى إِيلِيَاءَ فَأَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الصَّلَاةَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَجِئْتُ مَعَ عُبَادَةَ حَتَّى صَفَّ مَعَ النَّاسِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، فَقَرَأَ عُبَادَةُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى فَهِمْتُهَا مِنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَاةِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ:" لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ" وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَوَاهِدُ.
نافع بن محمود انصاری سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبادہ رضی اللہ عنہ ایلیا میں تھے، آپ صبح کی نماز میں پیچھے رہ گئے تو ابونعیم نے نماز کھڑی کردی۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بیت المقدس میں اذان کہی۔ میں سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ آپ لوگوں کے ساتھ آکر صف میں شامل ہوگئے۔ ابونعیم اونچی آواز سے قراءت کر رہے تھے اور عبادہ رضی اللہ عنہ سورہ فاتحہ کی قراءت (آہستہ) کر رہے تھے، مجھے سمجھ آرہی تھی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری نماز پڑھائی تو فرمایا: ”جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوں تو سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو۔“
یہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2921]
یہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد تقدم الكلام عليه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2922
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ لَفْظًا ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ" قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
محمد بن ابی عائشہ رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تم بھی قراءت کرتے ہو جبکہ امام قراءت کر رہا ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، مگر تم میں سے ہر ایک سورۂ فاتحہ ضرور پڑھے۔“
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2922]
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث: «منكر۔ قال ابن القيم في (تهذيب سنن ابي داود) 826»
الحكم على الحديث: منكر