السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
624. -- باب: ترك القنوت في سائر الصلوات غير الصبح عند ارتفاع النازلة وفي صلاة الصبح لقوم أو على قوم بأسمائهم أو قبائلهم
-- باب: مصیبت کے ٹل جانے پر فجر کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت ترک کرنے اور فجر کی نماز میں کسی قوم کے لیے یا کسی قوم کے خلاف ان کے ناموں یا قبیلوں کے ساتھ قنوت ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3101
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْعَتَمَةَ وَقَالَ فِي صَلَاتِهِ: شَهْرًا إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ وَفِي آخِرِهِ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو حَتَّى نَجَّاهُمُ اللهُ ثُمَّ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، عَنْ حَرْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَمْ تَدْعُ لِلنَّفَرِ؟ قَالَ:" أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّهُمْ قَدْ قَدِمُوا".
(ا) ایک دوسری سند میں ولید بن مسلم نے اسی طرح کی روایت بیان کی مگر انہوں نے عشا کا ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھتے رہے، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور پھر اپنی قنوت میں یہ کہتے۔۔۔
(ب) حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اوزاعی کی روایت کے معنیٰ میں روایت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان کے لیے دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں نجات دے دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کرنا چھوڑ دی۔ حرب سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اب آپ ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ وہ نجات پاچکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3101]
(ب) حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اوزاعی کی روایت کے معنیٰ میں روایت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان کے لیے دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں نجات دے دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کرنا چھوڑ دی۔ حرب سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اب آپ ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ وہ نجات پاچکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا هِشَامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی، اس میں عرب کے بعض قبائل پر بددعا کرتے تھے، پھر اس کو چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 677»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3103
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ يَحْكِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، فِي حَدِيثِ أَنَسٍ" قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ" قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا تَرَكَ اللَّعْنَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی، پھر چھوڑ دی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بددعا کرنی چھوڑی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح