السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
625. -- باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم
-- باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَأَمَّا فِي الصُّبْحِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک قنوت میں ان قبائل پر بددعا کرتے رہے، پھر چھوڑ دی اور صبح کی نماز میں ہمیشہ قنوت پڑھتے رہے حتیٰ کہ دنیا سے چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه احمد 3/ 162»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3105
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَنَسٍ فَقِيلَ لَهُ:" إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، فَقَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ ثِقَةٌ رِوَاتُهُ وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ تَابِعِيٌّ مَعْرُوفٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُمَا وَقَالَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَا: صَدُوقٌ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا إِنَّا لَا نَحْتَجُّ بِإِسْمَاعِيلَ الْمَكِّيِّ وَلَا بِعَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ.
ربیع بن انس بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، کسی نے ان سے پوچھا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ قنوت پڑھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے جانے تک مسلسل فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے رہے۔
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے ربیع بن انس کو صدوق اور ثقہ کہا ہے۔ اسماعیل بن مسلم مکی اور عمرو بن عبید نے بھی اسے حسن کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن ہم اسماعیل مکی اور عمرو بن عبید سے دلیل نہیں لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3105]
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے ربیع بن انس کو صدوق اور ثقہ کہا ہے۔ اسماعیل بن مسلم مکی اور عمرو بن عبید نے بھی اسے حسن کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن ہم اسماعیل مکی اور عمرو بن عبید سے دلیل نہیں لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3106
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَأَحْسِبُهُ قَالَ: رَابِعٌ حَتَّى فَارَقَهُمْ" وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ وَقَالَ: فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَلِحَدِيثِهِمَا هَذَا شَوَاهِدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ خُلَفَائِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ انہوں نے چوتھے (علی رضی اللہ عنہ) کا نام بھی لیا، ان سب نے قنوت پڑھی حتیٰ کہ میں ان سے جدا ہو گیا۔
(ب) عبدالوارث بن سعید کی روایت میں صبح کی نماز کا ذکر ہے۔ ان احادیث کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء سے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3106]
(ب) عبدالوارث بن سعید کی روایت میں صبح کی نماز کا ذکر ہے۔ ان احادیث کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء سے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الدار قطني 2/ 40»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3107
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ وَخَلْفَ عُمَرَ فَقَنَتَ وَخَلْفَ عُثْمَانَ فَقَنَتَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے قنوت پڑھی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی قنوت پڑھی، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی قنوت پڑھی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3108
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ قَالَ:" بَعْدَ الرُّكُوعِ" قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ" هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَا يُحَدِّثُ إِلَّا عَنِ الثِّقَاتِ عِنْدَهُ.
عوام بن حمزہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوعثمان رحمہ اللہ سے صبح کی نماز میں قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ رکوع کے بعد ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا: تم نے کس سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے۔
یہ سند حسن ہے اور یحییٰ بن سعید صرف انہی سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3108]
یہ سند حسن ہے اور یحییٰ بن سعید صرف انہی سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن ابي شيبه 2/60»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3109
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُخَارِقٌ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ الصُّبْحَ فَقَنَتَ".
سیدنا طارق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4959»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3110
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ" يَقْنُتُ هَاهُنَا فِي الْفَجْرِ بِمَكَّةَ" ⦗٢٨٩⦘ وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَهُ وَهَذِهِ رِوَايَاتٌ صَحِيحَةٌ مَوْصُولَةٌ.
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہاں فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے ہوئے سنا۔
ایک دوسری سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
یہ روایات صحیح اور موصول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3110]
ایک دوسری سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
یہ روایات صحیح اور موصول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ عند عبدالرزاق 4971۔ 4979»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3111
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ فَمَا كَانَ يَقْنُتُ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ".
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے سفر و حضر میں نماز ادا کی، وہ صرف صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ عند عبدالرزاق 4979، صحيح لغيره۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3112
وَرَوَاهُ آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ شُعْبَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ:" فَكَانَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَلَا يَقْنُتُ فِي سَائِرِ صَلَوَاتِهِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى اخْتِصَارٍ وَقَعَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي.
(ا) آدم بن ایاس رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں قنوت پڑھتے تھے اور باقی نمازوں میں نہیں پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم الكلام، علي اسناده في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3113
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ ⦗٢٩٠⦘ مُنِيبٍ، ثنا الْفُضَيْلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْأَسْوَدَ، وَعَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ قَالَا:" صَلَّيْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ" مَنْصُورٌ وَإِنْ كَانَ أَحْفَظَ وَأَوْثَقَ مِنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرِوَايَةُ حَمَّادٍ فِي هَذَا تُوَافِقُ الْمَذْهَبَ الْمَشْهُورَ، عَنْ عُمَرَ فِي الْقُنُوتِ.
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ اسود اور عمرو بن میمون دونوں روایت کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت نہیں پڑھی۔
منصور اگرچہ حماد بن ابی سلیمان سے زیادہ حافظ اور زیادہ ثقہ ہیں، لیکن اس بارے میں حماد کی روایت قنوت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشہور مذہب کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3113]
منصور اگرچہ حماد بن ابی سلیمان سے زیادہ حافظ اور زیادہ ثقہ ہیں، لیکن اس بارے میں حماد کی روایت قنوت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشہور مذہب کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3113]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عند عبدالرزاق 4948»
الحكم على الحديث: صحيح