السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
625. -- باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم
-- باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3114
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سِتَّ سِنِينَ فَكَانَ يَقْنُتُ" وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ شَاهَدَ وَحَفِظَ لَا قَوْلُ مَنْ لَمْ يُشَاهِدْ، وَلَمْ يَحْفَظْ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے چھ سال تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ قنوت پڑھا کرتے تھے۔
(ب) سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
(ج) اسی طرح ابو رافع رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
(د) اس قسم کی بات میں اس کا قول معتبر ہوتا ہے جس نے مشاہدہ بھی کیا ہو اور یاد بھی رکھا ہو، نہ کہ اس کا قول جس نے نہ مشاہدہ کیا ہو اور نہ ہی یاد رکھا ہو۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3114]
(ب) سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
(ج) اسی طرح ابو رافع رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
(د) اس قسم کی بات میں اس کا قول معتبر ہوتا ہے جس نے مشاہدہ بھی کیا ہو اور یاد بھی رکھا ہو، نہ کہ اس کا قول جس نے نہ مشاہدہ کیا ہو اور نہ ہی یاد رکھا ہو۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3114]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا اسناد صحيح متصل»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3115
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ التَّمِيمِيُّ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ:" قَنَتَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفَجْرِ" وَهَذَا عَنْ عَلِيٍّ صَحِيحٌ مَشْهُورٌ.
(ا) عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز میں قنوت کی۔
(ب) یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح اور مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3115]
(ب) یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح اور مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 7509»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مَطَرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَاهِلِيِّ قَالَ: كَأَنِّي أَسْمَعُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفَجْرِ حِينَ قَنَتَ وَهُوَ يَقُولُ:" اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ".
عبدالرحمن بن سوید کاہلی سے روایت ہے کہ گویا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فجر کی نماز میں قنوت کرتے دیکھ رہا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3116]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 4978»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3117
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَقَنَتَ".
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت نہیں پڑھی اور میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 2149»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3118
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ:" صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَنَتَ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] ".
ابورجاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی تو انہوں نے قنوت پڑھی اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اسناد صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3119
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٢٩٢⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ" قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ كَأَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ كَانَ صَاحِبَ مِرَاءٍ قَالَ: فَرَجَعْتُ فَتَرَكَتُ الْقُنُوتَ، فَقَالَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ: تَاللهِ مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ قَطُّ شَيْئًا لَمْ يَزَلْ فِي مَسْجِدِنَا، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى الْقُنُوتِ فَبَلَغَ ذَلِكَ إِبْرَاهِيمَ فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: هَذَا مَغْلُوبٌ عَلَى صَلَاتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مِنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ غَيْرُ مَرَضِيٍّ لَيْسَ كُلُّ عِلْمٍ لَا يُوجَدُ عِنْدَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَوُجِدَ عِنْدَ غَيْرَهِ لَا يُؤْخَذُ بِهِ بَلْ يُؤْخَذُ بِهِ إِذَا كَانَ أَعْلَى مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ الرَّاوِي ثِقَةً وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ثِقَةٌ، وَقَدْ أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَسْجِدِهِمْ وَرُوِّينَا عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ.
(ا) عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ کو سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کرتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
عمرو کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ تو جھگڑالو آدمی تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں واپس لوٹ آیا اور قنوت چھوڑ دی۔ تو مسجد والوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم مسجد میں وہ چیز نہیں دیکھ رہے جو ہمیشہ سے ہماری مسجد میں ہو رہی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ قنوت شروع کر دی تو ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچی تو وہ مجھے ملے اور فرمایا: یہ اس کی نماز پر مغلوب ہے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علم ایسا نہیں ہے کہ علم کی ہر بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے پاس ہی پائی جائے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس نہ پائی جائے اور اس کو نہ لیا جائے گا بلکہ دوسری کو لیا جائے گا۔ بلکہ اگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے زیادہ بلند مرتبہ والے سے روایت ہو اور راوی ثقہ ہو تو اسے لیا جائے گا اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ثقہ راوی ہیں۔
عمرو بن مرہ نے اہل مسجد کے بارے میں خبر دی کہ یہ کام (قنوت کا اہتمام) ہمیشہ سے ان کی مسجد میں جاری تھا۔
اسی طرح ہمیں ایک دوسری سند سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3119]
عمرو کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ تو جھگڑالو آدمی تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں واپس لوٹ آیا اور قنوت چھوڑ دی۔ تو مسجد والوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم مسجد میں وہ چیز نہیں دیکھ رہے جو ہمیشہ سے ہماری مسجد میں ہو رہی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ قنوت شروع کر دی تو ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچی تو وہ مجھے ملے اور فرمایا: یہ اس کی نماز پر مغلوب ہے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علم ایسا نہیں ہے کہ علم کی ہر بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے پاس ہی پائی جائے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس نہ پائی جائے اور اس کو نہ لیا جائے گا بلکہ دوسری کو لیا جائے گا۔ بلکہ اگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے زیادہ بلند مرتبہ والے سے روایت ہو اور راوی ثقہ ہو تو اسے لیا جائے گا اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ثقہ راوی ہیں۔
عمرو بن مرہ نے اہل مسجد کے بارے میں خبر دی کہ یہ کام (قنوت کا اہتمام) ہمیشہ سے ان کی مسجد میں جاری تھا۔
اسی طرح ہمیں ایک دوسری سند سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد 71»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3120
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّهُ" قَنَتَ فِي الْفَجْرِ".
عبید بن براء، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 7010»
الحكم على الحديث: صحيح