🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

630. -- باب: من لم ير القنوت في صلاة الصبح
-- باب: اس شخص کا بیان جو فجر کی نماز میں قنوت کا قائل نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَوَاتِهِ" ⦗٣٠٢⦘ كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی نماز میں قنوت نہیں پڑھی۔
اسے محمد بن جابر سحیمی نے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الطبراني في الاوسط 7483»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3155
وَقَدْ رَوَى أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ، وَذَكْوَانَ، فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا تَرَكَ اللَّعْنَ".
(ا) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی، جس میں عصیہ اور ذکوان پر بددعا کرتے رہے۔ پھر جب آپ ان پر غالب آ گئے تو آپ نے قنوت ترک کر دی۔
(ب) عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بددعا کرنا ترک کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3155]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطحاوي 1/ 245»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3156
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلَفَ أَبِي بَكْرٍ، وَخَلَفَ عُمَرَ؟ قَالَ: بَلَى قُلْتُ: فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ؟ قَالَ:" يَا بُنِيَّ مُحْدَثَةٌ" طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ الْأَشْجَعِيُّ لَمْ يَحْفَظْهُ عَمَّنْ صَلَّى خَلْفَهُ، فَرَآهُ مُحْدَثًا وَقَدْ حَفِظَهُ غَيْرُهُ، فَالْحُكْمُ لَهُ دُونَهُ.
(الف) ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا: ابا جان! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے کہا: کیا وہ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! یہ تو بدعت ہے۔
(ب) طارق بن اشیم اشجعی نے اس سے روایت یاد ہی نہیں کی جس کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی، اس لیے وہ اس کو بدعت سمجھتے تھے حالانکہ یہ روایت ان کے علاوہ حضرات نے یاد کی ہے، لہٰذا اس کا حکم ان کے مخالف ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه ص 1241»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمْ يَقْنُتْ، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: لَا أَرَاكَ تَقْنُتُ قَالَ:" لَا أَحْفَظُهُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا" قَالَ الشَّيْخُ: نِسْيَانُ بَعْضِ الصَّحَابَةِ أَوْ غَفْلَتُهُ عَنْ بَعْضِ السُّنَنِ لَا يَقْدَحُ فِي رِوَايَةِ مَنْ حَفِظَهُ وَأَثْبَتَهُ.
(ا) ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، انہوں نے قنوت نہیں پڑھی۔ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے آپ کو قنوت پڑھتے نہیں دیکھا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے اصحاب میں سے میں نے کسی سے بھی یہ حدیث نہیں سنی۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض صحابہ کا بھول جانے اور ان سے بعض سنتوں سے تساہل ہوجانے سے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت پر قدح (مذمت، تنکیر) لازم نہیں آتا جنہوں نے اس کو یاد کیا ہوا اور اسے ثابت رکھا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3157]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4954»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3158
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ:" أَرَأَيْتَ قِيَامَهُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْقَارِئِ مِنَ السُّورَةِ، هَذَا الْقُنُوتَ؟ إِنَّهَا لَبِدْعَةٌ، مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ" بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ النَّدَبِيُّ ضَعِيفٌ، وَإِنْ صَحَّتْ رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَفِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَنْكَرَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ دَوَامًا وَأَمَّا الَّذِي.
بشر بن حرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا: ”کیا تو ان کے قیام کو دیکھ رہا ہے کہ قاری کے سورت سے فارغ ہونے کے بعد یہ قنوت یقیناً بدعت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف ایک ماہ تک قنوت کی تھی، پھر اس کو چھوڑ دیا تھا“۔
اگر بشر بن حرب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت کا انکار کیا ہے، مطلق قنوت کا انکار نہیں کیا۔
[ضعیف راوی، بشر بن حرب الندبی ضعیف ہے۔] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3158]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3159
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِدْعَةٌ" فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ، وَأَبُو لَيْلَى الْكُوفِيُّ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ رُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ.
(ا) جلیل القدر تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بدعت ہے۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے، ابولیلیٰ کوفی متروک ہے۔
(ب) حالانکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہم گزشتہ اوراق میں ذکر کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3159]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3160
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ" أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثُ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى وَعَنْبَسَةُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ضُعَفَاءُ وَلَا يَصِحُّ لِنَافِعٍ سَمَاعٌ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: وَقَالَ هَيَّاجٌ: عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنِ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ لَمْ تُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صبح کی نماز میں قنوت پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔“
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن یعلیٰ، عنبسہ اور عبداللہ بن نافع ضعیف ہیں اور نافع کا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں۔ ہیاج نے اسے عنبسہ سے، انہوں نے ابن نافع سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور صفیہ بنت ابی عبید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3160]
تخریج الحدیث: «باطل۔ اخرجه الطبراني في الكبير 643»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں