السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
630. -- باب: من لم ير القنوت في صلاة الصبح
-- باب: اس شخص کا بیان جو فجر کی نماز میں قنوت کا قائل نہیں ہے
حدیث نمبر: 3158
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ:" أَرَأَيْتَ قِيَامَهُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْقَارِئِ مِنَ السُّورَةِ، هَذَا الْقُنُوتَ؟ إِنَّهَا لَبِدْعَةٌ، مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ" بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ النَّدَبِيُّ ضَعِيفٌ، وَإِنْ صَحَّتْ رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَفِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَنْكَرَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ دَوَامًا وَأَمَّا الَّذِي.
بشر بن حرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا: ”کیا تو ان کے قیام کو دیکھ رہا ہے کہ قاری کے سورت سے فارغ ہونے کے بعد یہ قنوت یقیناً بدعت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف ایک ماہ تک قنوت کی تھی، پھر اس کو چھوڑ دیا تھا“۔
اگر بشر بن حرب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت کا انکار کیا ہے، مطلق قنوت کا انکار نہیں کیا۔
[ضعیف راوی، بشر بن حرب الندبی ضعیف ہے۔] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3158]
اگر بشر بن حرب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت کا انکار کیا ہے، مطلق قنوت کا انکار نہیں کیا۔
[ضعیف راوی، بشر بن حرب الندبی ضعیف ہے۔] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3158]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3158 in Urdu