السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها
نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q3202
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: 31] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقِيلَ وَاللهُ أَعْلَمُ: الثِّيَابُ وَهُوَ يُشْبِهُ مَا قِيلَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ طَاوُسٍ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَا وَارَى عَوْرَتَكَ وَلَوْ عَبَاءَةٌ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”ہر مسجد (میں نماز کی حاضری) کے وقت اپنی زینت اختیار کرو۔“ [سورة الأعراف: 31]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد کپڑے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اور یہ اسی کے مشابہ ہے جو کہا گیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اور یہ طاؤس کا قول ہے۔“
اور مجاہد نے فرمایا: ”(زینت سے مراد) وہ چیز ہے جو تمہارے ستر کو چھپا لے، خواہ وہ عباء (چوغہ) ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q3202]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد کپڑے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اور یہ اسی کے مشابہ ہے جو کہا گیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اور یہ طاؤس کا قول ہے۔“
اور مجاہد نے فرمایا: ”(زینت سے مراد) وہ چیز ہے جو تمہارے ستر کو چھپا لے، خواہ وہ عباء (چوغہ) ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q3202]
حدیث نمبر: 3202
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ٣١] قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ تُخْرِجُ صَدْرَهَا وَمَا هُنَاكَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ٣١] .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [سورة الأعراف: 31] کے بارے میں فرماتے ہیں: (زمانہ جاہلیت) میں عورت جب بیت اللہ کا طواف کرتی تو اپنا سینہ نکال لیتی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی: ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [سورة الأعراف: 31] ”ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3202]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن جرير في تفسيره 5/ 469»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3203
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتِ" الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، وَعَلَى فَرْجِهَا خِرْقَةٌ وَهِيَ تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كَلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ} [الأعراف: ٣٢] الْآيَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، وَابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: الشَّافِعِيُّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" فَدَلَّ أَنْ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ إِلَّا لَابِسًا إِذَا قَدَرَ عَلَى مَا يَلْبَسُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت ننگے بدن بیت اللہ کا طواف کیا کرتی تھی، صرف اس کی شرم گاہ پر کپڑے کا ایک ٹکڑا سا ہوتا تھا اور یہ شعر پڑھا کرتی:
«الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ»
”آج کے دن اس کا بعض حصہ یا سارا ظاہر ہوگا، پس جو اس سے ظاہر ہوا ہے، میں اسے حلال نہیں ہونے دوں گی۔“
چنانچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ [سورة الأعراف: 32] ”کہہ دیجیے اللہ کی زینت کو کس نے حرام قرار دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ نہ ہو۔“ یہ فرمانِ رسول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لباس کے بغیر نماز پڑھے جب کہ اسے کسی قدر بھی لباس پر قدرت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3203]
«الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ»
”آج کے دن اس کا بعض حصہ یا سارا ظاہر ہوگا، پس جو اس سے ظاہر ہوا ہے، میں اسے حلال نہیں ہونے دوں گی۔“
چنانچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ [سورة الأعراف: 32] ”کہہ دیجیے اللہ کی زینت کو کس نے حرام قرار دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ نہ ہو۔“ یہ فرمانِ رسول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لباس کے بغیر نماز پڑھے جب کہ اسے کسی قدر بھی لباس پر قدرت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 3028»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3204
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ایک کپڑے میں ہرگز اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 352»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3205
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ.
امام مالک رحمہ اللہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ”کوئی شخص ایسے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا حصہ نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3205]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3206
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:" نَهَى ⦗٣١٧⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهُ مِنْهُ شَيْءٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک کپڑا اس طرح لپیٹنے سے منع فرمایا ہے کہ ہاتھ سب بند ہو جائیں۔“ بعض کہتے ہیں: «اِشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» یہ ہے کہ کپڑے کو لپیٹ لے اور ایک طرف سے اس کو اٹھا کر کندھے پر ڈال دے، اس سے شرم گاہ کھل جاتی ہے، اور ”ایک کپڑے میں گوٹ مارنے سے بھی منع فرمایا جب کہ اس کی شرم گاہ پر کچھ نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 360»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3207
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ، عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباسوں سے منع فرمایا ہے: ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» سے اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے (اس طرح کہ پاؤں پیٹ سے الگ ہوں) اور شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 559»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ ثُمَّ يَرْفَعَهُ مِنْ أَحَدِ جَانِبَيْهِ فَيَضَعَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَيَبْدُوَ مِنْهُ فَرْجُهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بائیں ہاتھ کے ساتھ کھانے، ایک جوتا پہن کر چلنے، «اِشْتِمَالِ صَمَّاء» کرنے اور ایک ہی کپڑے میں گوٹ مارنے سے کہ اس میں آسمان کی طرف شرمگاہ کھل جائے، منع فرمایا ہے۔“
فقہاء کے نزدیک «اِشْتِمَال» سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ہی کپڑا لپیٹ لے، اس کے علاوہ اس پر اور کوئی کپڑا نہ ہو، پھر اس کو ایک طرف سے اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ دے تو اس سے اس کی شرمگاہ کھل جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3208]
فقہاء کے نزدیک «اِشْتِمَال» سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ہی کپڑا لپیٹ لے، اس کے علاوہ اس پر اور کوئی کپڑا نہ ہو، پھر اس کو ایک طرف سے اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ دے تو اس سے اس کی شرمگاہ کھل جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3208]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 2099»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ عَنْ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ ضِيقٍ مُسْتَلْقِيًا مِنْ أَجْلِ انْكِشَافِ الْعَوْرَةِ؛ لِأَنَّ الْمُسْتَلْقِيَ إِذَا رَفَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ ضِيقِ الْإِزَارِ، لَمْ يَسْلَمْ مِنْ أَنْ يَنْكَشِفَ شَيْءٌ مِنْ فَخِذَيْهِ وَالْفَخِذُ عَوْرَةٌ، فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِزَارُ سَابِغًا أَوْ كَانَ لَابِسُهُ عَنِ التَّكَشُّفِ مُتَوَقِّيًا فَلَا بَأْسَ بِهِ، قَالَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ اسْتِدْلَالًا بِمَا.
(ا) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال صما“ سے، ایک کپڑے میں گوٹ مارنے سے اور کمر کے بل لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے“۔
(ب) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی کے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھنے کی ممانعت ستر کے کھلنے کی وجہ سے ہو، کیونکہ لیٹنے والا آدمی جب تنگ تہہ بند میں ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھے تو اس کے ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلے گا وہ سلامت نہ رہے گا اور ران خود ستر ہے۔ پس اگر تہہ بند کشادہ ہو یا اس کو پہننے والا ستر کھلنے سے بچتا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3209]
(ب) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی کے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھنے کی ممانعت ستر کے کھلنے کی وجہ سے ہو، کیونکہ لیٹنے والا آدمی جب تنگ تہہ بند میں ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھے تو اس کے ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلے گا وہ سلامت نہ رہے گا اور ران خود ستر ہے۔ پس اگر تہہ بند کشادہ ہو یا اس کو پہننے والا ستر کھلنے سے بچتا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3210
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى" قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: وَعَمُّهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ ⦗٣١٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ كُلُّهُمْ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے پاؤں پر پاؤں رکھے ہوئے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري ص463»
الحكم على الحديث: صحيح