السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها
نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى" قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، يَعْنِي عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ بِذَلِكَ وَكَانَ لَا يُحْصِي ذَلِكَ مِنْهُمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَجَاءَ النَّاسُ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں سیدھے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھے ہوئے دیکھا۔
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں بھی یہی بتایا، اور ان دونوں سے ایسا اتنی بار دیکھا گیا کہ وہ اس کا شمار نہیں کر سکتے تھے۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ بہت بڑی بات لے آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3211]
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں بھی یہی بتایا، اور ان دونوں سے ایسا اتنی بار دیکھا گیا کہ وہ اس کا شمار نہیں کر سکتے تھے۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ بہت بڑی بات لے آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقد، في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى الْأُمَوِيِّ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک پتھر اٹھائے ہوئے آیا اور میرے اوپر ایک ہلکی سی چادر تھی، وہ کھل گئی۔ میرے پاس پتھر ہونے کی وجہ سے میں اس کو اٹھا نہ سکتا تھا۔ میں نے پتھر کو اپنی جگہ پہنچا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جا کر اپنا کپڑا اٹھاؤ اور تہہ بند باندھ لو، ننگے بدن مت چلا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 341»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3213
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ:" احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ؟ قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا" قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ" أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي التَّرْجَمَةِ.
بہز بن حکیم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ (رضی اللہ عنہ) سے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم کس سے اپنا ستر چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی یا لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں تو پھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھ سے ہو سکے کہ تیرا کوئی ستر نہ دیکھے تو ایسا ہی کر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص گھر میں اکیلا ہو تو پھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ شرم کرنی چاہیے، وہ حیا کا زیادہ مستحق ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3213]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 4017»
الحكم على الحديث: حسن